ہندوستان

ضروری کاغذات کی درستگی میں بھائی بندی کا ثبوت دیں! وزیر احمد مصباحی

ضروری کاغذات کی درستگی میں بھائی بندی کا ثبوت دیں !وزیر احمد مصباحی

ضروری کاغذات کی درستگی میں بھائی بندی کا ثبوت دیں
تحریر : وزیر احمد مصباحی (بانکا)
      مکرمی! فی الوقت وطن عزیز میں این آر سی کے حوالے سے جو ماحول گرم ہے، نہ جانے اس خوف و دہشت نے کتنوں کی جانیں لے لیں. خاص کر وہ غریب افراد ، جو دن بھر مزدوری کرکے اپنے اہل و عیال کی پرورش کرتے ہیں اور سرکاری مراعات و اعلانات کی طرف اپنی توجہ نہ کے برابر ہی مبذول کرتے ہیں، این آر سی کے حوالے سے وزیر داخلہ، امت شاہ کے دیے گئے بیان نے تو ان کی راتوں کی نیندیں ہی حرام کر دیا ہے کہ آخر اب اسے اپنے ہندوستانی ہونے کی قوی ثبوت بھی پیش کرنا پڑے گا ؟ آخر کون ہے جو ان کے تمام سرکاری کاغذات جو غیر درست ہیں، درست کرانے میں مدد کرے اور آفس و کوٹ کچہری تک کا اس کے ساتھ چکر لگائے. تا کہ وقت سے پہلے پہلے وہ اپنے آپ میں مطمئن ہو کر یہ یقین پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ نہیں، میں بھی ہندوستانی ہوں اور یہاں کے ذرے ذرے سے پیار و محبت ہونے میں مجھ کو کوئی تشکیک کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا.
      آسام میں این آر سی کے بعد جو رزلٹ آیا وہ مسلمانوں کے حق میں زیادہ مضر نہیں ہے. اس کی زد میں غیر مسلم ہی زیادہ ہیں. پر اس کے بعد ہی کلکتہ کے پروگرام سے امت شاہ نے جس طرح دیگر فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں سے نفرت و عداوت کا اظہار کیا وہ قابل افسوس ہے اور اسی نے مسلم دلوں میں خوف پیدا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمیں "گھسپٹیے” کہ کر غیر ملکی قرار دینے کے لیے این آر سی کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں. اس کے بعد ہی ہر نیوز چینل اور اخبارات و ویبسائٹ نے اس خبر کو شائع کرکے وزیر داخلہ کی منفی سوچ کو اجاگر کیا. اس بیان نے مسلمانوں کو کافی حد تک بیدار بھی کر دیا کہ نہیں ہمیں وقت سے پہلے ہی اپنے وہ ضروری کاغذات جو غیر درست ہیں، درست کروا لینا چاہیے. لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر وہ دیہی باشندے جو تعلیم و تعلم سے کوسوں دور ہیں اور اپنے سرکاری کام کے تحت کوٹ و کچہری تک چکر نہیں لگا سکتے، ان کی مدد کون کرے اور انھیں اس سوچ و غم سے آزاد کرکے سکون کی نیند کون عطا کرے، تا کہ وہ سابقہ روش کے مطابق دن بھر محنت و مزدوری کر کے آرام سے اپنے بیوی بچوں کی پیٹ پال پوس سکیں. یقیناً وہ افراد قابل مبارک باد ہیں، جنھوں نے اس موقع پر بھی انسانیت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنے علم کی بنیاد پر دوسرے مسلم بھائیوں کو امداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ایک جگہ متعین کرکے اس کام میں اپنے آپ کو وقف کر دیا، لیکن یہ ایک دو جگہ ہی کرنے سے تو کام نہیں بن جائے گا؟ ملک بھر میں مسلم، ہی سب سے بڑی اقلیتی طبقہ ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے آفراد بھی زیادہ ہوں گے. اس لیے ایسے موقع پر قوم کے حساس اور حالات سے اپ ڈیٹ ہوتے رہنے والے افراد کی یہ سخت ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ "إنما المؤمنون اخوۃ” پر عمل کرتے ہوئے سرکاری کاغذات کی درستی میں ان کا ساتھ دیں. ذمہ دار علما، سماجی کارکن، معتمد علیہ شخصیات اور تمام رفاہی اداروں کے ذمہ داران حضرات وغیرہ ان مجبوروں و بے بسی کی زندگی گزارنے والے افراد کے لیے اس معاملے میں مدد کریں، تا کہ وہ بھی ہندوستانی فضا میں ہم لوگوں کے ساتھ مل کر پیار و محبت سے زندگی گزر بسر کر سکیں. یاد رکھیں! اگر ہم نے اپنی بیدار مغزی کا درست ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ ذمہ داری ادا کر دیں تو وہ دن دور نہیں جب، حکومت کو منہ کی کھانی پڑے گی اور آسام ہی کی طرح اسے ملک بھر کے دیگر صوبوں میں بھی ناکامی و نامرادی ہاتھ لگ جائے گی. ساتھ ہی ساتھ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا اس کا عظیم خواب بھی سراب سے زیادہ وقعت و اہمیت کے حامل نہیں ہوگا کہ پھر ہمارے پاس ووٹ دینے کا مضبوط ہتھیار حاصل ہو جائے گا ، سیکولر اور عوامی فلاح و بہبود تئیں فکر مند رہنے والی پارٹی کو ہم پارلیمنٹ تک پہنچائیں گے، وہ سرکار تک ہماری ضروریات کو لے کر جائے گی اور سیاست کے میدان میں بھی مسلمانوں کی حصہ داری ہوگی…. کہ اس جمہوریت میں ووٹ کا حق ہی ایک ایسا حق ہے جو اس ملک کو کبھی ہندو راشٹر میں کبھی تبدیل نہیں ہونے دے گا… (خدا اس کار خیر کی توفیق دے، آمین یا رب العالمین) ___
مورخہ : ١،١١،٢٠١٩
   بروز___جمعۃ المبارکہ

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close