قومی

گیان واپی کیس : شیولنگ کی پوجا کے مطالبہ والی عرضی منظور

سپریم کورٹ گیان واپی احاطہ میں مبینہ طور پر ملے شیولنگ کی پوجا، زیارت کرنے، گراؤنڈ پینٹریٹنگ رڈار (جی پی آر) سروے اور کاربن ڈیٹنگ کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کے لیے متفق ہو گیا ہے۔ ذیلی عدالت کے حکم پر پہلے کرائے گئے سروے کے دوران گیان واپی مسجد کے وضو خانہ علاقہ میں شیولنگ ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

وکیل وِشنو جین نے چیف جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی بنچ کے سامنے سات ہندو خواتین کے ذریعہ داخل عرضیوں کا تذکرہ کیا۔ جین نے کہا کہ عرضی گیان واپی مسجد احاطہ کے اندر پائے گئے شیولنگ کی پوجا اور زیارت کے لیے اور شیولنگ کی ڈیٹنگ کے لیے بھی ہے۔ انھوں نے عدالت سے معاملے کو فوراً فہرست بند کرنے کی گزارش کی۔ جین نے کہا کہ سروے کو چیلنج پیش کرنے والی مسلم فریق کی اپیل 21 جولائی کو آ رہی ہے اور عدالت سے اس عرضی کو اس کے ساتھ فہرست بند کرنے کی گزارش کی۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے کو 21 جولائی کو فہرست بند کرنے پر اتفاق ظاہر کیا۔

ہائی کورٹ نے 20 مئی کو گیان واپی مسجد میں پوجا کے حق کا مطالبہ کرنے والے ہندو فریقین کے ذریعہ سماعت کی کارروائی وارانسی کے ضلع جج کو منتقل کر دی تھی۔ حالانکہ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس کا 17 مئی کا عبوری حکم ’شیولنگ‘ کی سیکورٹی کی ہدایت دیتی ہے۔ ’شیولنگ‘ کو مبینہ طور پر وارانسی کی گیان واپی مسجد میں سروے کے دوران دریافت کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت ضلع جج کے فیصلے کے بعد آٹھ ہفتہ تک رہے گی۔

عرضی دہندگان نے عدالت عظمیٰ سے گزارش کی ہے کہ وہ 16 مئی 2022 کو ایڈووکیٹ کمشنر کے سروے میں تلاش کیے گئے پرانے مندر احاطہ کے اندر موجود شیولنگ کی پوجا کی لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کے لیے شری کاشی وشوناتھ ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر مشین نصب کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو ہدایت دے۔ عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھکتوں کو ورچوئل زیارت اور علامتی پوجا کرنے کی اجازت دینے کی ہدایت دی جائے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button