دہلی

کنہیالال قتل کی آڑ میں مدارسِ اسلامیہ پر رکیک الزام : طلباء کو مدارس میں ’شدت پسندی‘ کی تعلیم دی جاتی ہے:عارف محمد خان

نئی دہلی،29جون (ہندوستان اردو ٹائمز) نوپور شرما تنازع میں کنہیا لال کے قتل سے اکثریتی برادری میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔دریں اثنا کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے مدارس اسلامیہ کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر’ مدارس نفرت کی جڑ ‘ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچپن سے یہ سکھایا جا تا ہے کہ اگر کوئی اس کے خلاف بولے تو سر قلم کر دیا جائے۔

عارف محمد نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بچوں کو گستاخوں کا سر قلم کرنا سکھایا جا رہا ہے؟ مسلم قانون قرآن سے نہیں آیا، یہ کسی شخص نے لکھا ہے جس میں سر قلم کرنے کا قانون ہے اور یہ قانون مدرسے میں بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ باتیں راجستھان کے ادے پور میں کنہیا لال کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم علامات دیکھتے ہیں تو ہم فکر مند ہوتے ہیں لیکن اسے سنگین بیماری ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

عارف محمد خان اکثر کہتے ہیں کہ مولانا اور مدارس مسلمانوں کے ایک طبقے کو بنیاد پرست بنا رہے ہیں۔ وہ غیر مسلموں سے نفرت کا درس دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بچپن میں ہی دوسرے مذاہب سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے میں جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو دوسرے مذاہب کے لوگوں کی طرف ہمیشہ چوکنا رہتے ہیں اور شکوک و شبہات سے بھرے رہتے ہیں۔ ان کیخیالات پر بھی کڑی تنقید کی جاتی ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button