بہار و سیمانچل

کاش! کیرلا و تلنگانہ ماڈل قائم ہوجائے ! راشد حسین قاسمی ارریہ سیمانچل

کاش! کیرلا و تلنگانہ ماڈل قائم ہوجائے *
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

فوٹو راشد حسین قاسمی

ملک میں مسلم تعداد بہت زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ہے اگر ہم حکومت نہیں بناسکتے تو! ہمارے بغیر کوئی حکومت بھی نہیں کرسکتے, بشرطے کہ ہمارے اندر سے مفاد پرستی نکل کر مذہب پرستی آجائے کیوں کہ آج کل اکثر مسلم لیڈر سماج و ملت کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ اپنی نسل در نسل کی ترقی و دنیاوی شہرت کیلئے سیاست کرتے ہیں اور ہم سیدھے سادھے لوگ وقتی لالچ وچاپلوسی میں پھنس کر اپنی قیمتی ووٹ برباد کردیتے ہیں, اگر ہم تھوڑی سی عقل وسمجھ سے اور دوسرے علاقے کی ترقی سے سبق لیکر اپنے یہاں زمینی حکمت عملی تیار کرلیں تو, بہت آسانی اور بہت جلد ملت و سماج کے مسائل حل ہوجائے, ہم صوبہ کیرلا کو دیکھیں کہ وہاں ایک زمانہ سے کانگریس مسلم لیگ کے ساتھ حکومت کرتی ہے اس کے بغیر وہ ایک قدم آگے نہیں چل پاتی ہے جس کی بناپر نہ تو ملت کے اوپر کوئی ظلم نہ ناانصافی نہ مذہب کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ, اور پھر مسلمانوں کو پندرہ فیصد ریزرویشن بھی ہے, جو پورے ملک میں اتنا زیادہ ریزرویشن مسلم کو کہیں نہیں ہے اور یہی ترقی و بول بالا انصاف سکون اور دس فیصد ریزرویشن تلنگانہ میں بھی ہے, جبکہ تلنگانہ میں بہت کم مسلم آبادی ہے یہ صرف بصرف مجلس اتحادالمسلمین کی محنت رعب دبدبہ اور بیدار مغزی کی بناپر ہورہا ہے اور تلنگانہ حکومت مجلس کی وجہ سے مسلم کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ و کھیل نہیں کھیل سکتی ہے, اور اس کے مقابلہ یو پی بہار دہلی مہاراشٹر بنگال اور کرناٹک میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے جس کی بناپر یہ ماڈل ان علاقوں میں بنانا بہت آسان ہے مثلا ہمارا سیمانچل ارریہ میں 45 فیصد کشنگنج میں 70 فیصد کٹیہار میں 45 فیصد اور پورنیہ میں 40 فیصد مسلم آبادی ہے اگر صرف ان چار ضلعون میں مجلس کو کامیابی مل جاتی ہے تو بہار میں یہ ماڈل بآسانی تیار ہو جائےگا, اور یہی کامیابی آسام میں بھی ,مولانا بدرالدین اجمل صاحب کی پاڑٹی, یو ڈی ایف,کے ذریعہ ملتے ملتے کانگریس کی گھٹیا سوچ اور گھمنڈی کی بناپر رہ گئی اور ہار کی شکل میں اللٰہ نے کانگریس کو سزا بھی دیا, ان شاءاللّٰہ آئندہ بہت جلد وہاں یہ ماڈل قائم ہونے والا ھے,بہت دنوں سے ملک پر گہری نگاہ ڈالنے سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ بعض بعض صوبے میں موجودہ سیکولر پاڑٹیوں کے پچیس پچاس اور اسّی مسلم ایم ایل اے موجودہ رہنے کے بعد بھی, مسلمانوں کے اوپر ظلم ناانصافی پروپیگنڈہ اور جھوٹا الجام ڈال کر برباد کیا گیا اور یہ غیر مسلم پاڑٹی کے مسلم لیڈر صاحب گونگے بہرے بن کر خاموش تماشہ دیکھتے رہے, اسلئے اب کیرلا و تلنگانہ ماڈل کی سخت ضرورت محسوس کیا جا رہا ہے,اور اگر اسی طرح پورے ملک میں مسلمان یہ ماڈل قائم کرلیں تو, یاد رکھئے یہ بی جے پی و کانگریس یا اور کوئی بھی غیر مسلم پاڑٹی کے اندر اتنا دم نہیں ہے کہ وہ مسلم کے خلاف کچھ سوچ سکے یا آنکھ اٹھا کر دیکھ لے, اسلئے وقت کے تقاضے و حکمت سے مسلم اکثریتی علاقے میں مسلم صرف کسی ایک اچھی مسلم پاڑٹی کو ہی ووٹ دے اور غیر مسلم بھائیوں پر بھی محنت کرکے اس طرف ووٹ کرائے اور جن علاقے میں اپنی کم آبادی ہے وہاں نام نہاد سیکولر پاڑٹی کو کامیاب بنائے اور یہ بات سب کے ذہن میں رہے کہ اویسی کو اللٰہ نے سیاسی مالی اور تعلیمی زبردست صلاحیت سے نوازہ ہے کسی دوسری موجودہ مسلم پاڑٹی یا نئی پارٹی کو یہاں تک پہونچنے میں پچاسوں سال لگ جائیں گے اس لئے اگر اس کے اندر کچھ کمی ہے تو اکابریں علماء کرام موقع بموقع رہبری و سرپرستی کرتے رہیں,اور خوشی کی بات ہے کہ اویسی صاحب بھی دیندار باشعور اور فکر مند سیاست داں ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر بھی ہیں,اللّٰہ ہر صوبے میں یہ ماڈل قائم فرمائے – آمین

راشد حسین قاسمی ارریہ سیمانچل

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close