دیوبند

مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کا انتقال علمی و ادبی دنیا کا عظیم خسارہ ہے: مولانا سلمان ندوی

جامعہ امام محمد انور شاہ میں تعزیت کے لئے پہنچے مولانا سلمان ندوی کا اظہار خیال

دیوبند، 3؍ اکتوبر (رضوان سلمانی) علم و ادب کی مشہور شخصیت ادیب العصر حضرت مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر کی وفات کو تین ہفتہ سے زائد وقت گزر چکا ہے مگر ان کی وفات کے بعد تعزیت کرنے والوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

آج ملک کے مشہور خطیب مولانا سلمان حسینی ندوی اسی غرض سے جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند تشریف لائے اور خانوادۂ انوری کو تعزیتِ مسنونہ پیش کی۔ انہوں نے مرحوم کے فرزندِ اکبر مولانا عبید انور شاہ قیصر استاذِ حدیث جامعہ امام محمد انور شاہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کا انتقال علمی و ادبی کائنات کا عظیم خسارہ ہے۔ مولانا کی تحریریں بڑے شوق سے پڑھی جاتی تھیں اور ان کا انتظار کیا جاتا تھا۔ مولانا ندوی نے کہا کہ مولانا نسیم شاہ مرحوم کی انشا پردازی مجھے بہت پسند تھی۔ وہ خاکہ نگاری میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم نے اپنی تحریر، تقریر اور گفتار و کردار سے ملتِ اسلامیہ ہندیہ کو خوب فیض یاب کیا۔

مولانا مرحوم اپنی سادگی ، تواضع، عاجزی، کسرنفسی، مزاج میں سلامتی وخودداری اور صالح جذبات کے غیرمعمولی عناصر کی بنا پر دوسروں سے ممتاز تھے۔ بلکہ ان کے مزاج کی سادگی ، وضع داری، اکابرین کی محبت، صالح سے مزین تھی ۔ وہ ایک سنجیدہ زندہ دل شخصیت اور ایک ایسے انسان تھے جنہیں ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ وہ اپنے چھوٹوں کے لئے مشفق اور بڑوں کے انتہائی مؤدب تھے۔

وہ اپنے نامور دادا امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ اور اپنے والد گرامی صاحبِ طرز ادیب حضرت مولانا سید ازہر شاہ قیصر کے علم و اخلاق کے بہترین شارح و ترجمان رہے۔ انہوں نے اپنے قلم سے ادبی میراث کی بھی بخوبی حفاظت ، بلکہ اس کی آبیاری کی اور وہ ملک میں نامور قلم کار کی حیثیت سے ممتاز و متعارف ہوئے۔ ہندوستان کے مختلف اخبارات ورسائل میں ان کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے اور پڑھے جاتے تھے۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف اور مرتب بھی تھے۔ ان کے انتقال سے ادبی دنیا کا ایک بڑا خسارہ ہوا ہے۔ مولانا نے کہا کہ بہت سے افراد ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی وفات سے پوری فضا سوگوار ہوجاتی ہے ، ان ہی افراد میں سے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر بھی تھے جن کی وفات نے ہر ایک کو سوگوار کردیا۔

مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ خانوادۂ انوری سے میرے تعلقات بہت قدیم ہیں اور ملاقاتوں کا سلسلہ عرصۂ دراز سے قائم ہے۔ مولانا مرحوم سے میری ملاقات اکثر پروگراموں میں بھی ہوتی تھی اور وہ بڑی محبت سے ملتے تھے ۔ مولانا کی وفات سے میں بہت رنجور ہوا۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت فرمائے اور ان کی اولاد کو اپنے والد کے نامکمل منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے کی ہمت و توفیق بخشے،اس موقع پر مولانا طلحہ اعظمی، مولانا فضیل ناصری، قاری بلال، مولانا بدرالاسلام، مفتی نوید، مولانا عثمان، مولانا ثاقب وغیرہ موجود رہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button