بنگلور

مدارس پر پابندی لگائی جائے،کرناٹک کے بی جے پی لیڈرکامتنازعہ بیان،حجاب تنازعہ پراحتجاج سے بھی ناراض

بنگلورو26مارچ (ہندوستان اردو ٹائمز) ایسالگتاہے کہ کرناٹک ہندوتواکی نئی تجربہ گاہ بن رہی ہے۔ حجاب تنازعہ،مندروں سے باہردوکان لگانے سے مسلمانوں کوروکنااب مدارس کے خلاف بیان بازی یہی بتاتی ہے۔کرناٹک کے بی جے پی ایم ایل اے رینوکاچاریہ نے ایک بار پھر انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ رینوکاچاریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مدارس میں ملک مخالف سبق پڑھایا جاتا ہے، اس لیے انہوں نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج ایس بومئی اور وزیر تعلیم بی سی ناگیش سے ریاست کے تمام مدارس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔بی جے پی ایم ایل اے نے کہاہے کہ میں وزیراعلیٰ اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مدرسہ پر پابندی لگائی جائے۔

انہوں نے کہاہے کہ کیا ایسے اسکول نہیں ہیں جہاں تمام مذاہب کے طلباء پڑھ رہے ہوں؟ مدارس ملک دشمن سبق پڑھاتے ہیں، اس پر پابندی لگائی جائے۔رینوکاچاریہ نے کہاہے کہ کچھ ملک مخالف تنظیموں نے حجاب کے معاملے پر کرناٹک بند کی کال دی ہے۔ کیاحکومت یہ برداشت کر سکتی ہے؟ کیا یہ پاکستان، بنگلہ دیش یا اسلامی ملک ہے؟ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ ملک مخالف تنظیموں کے کرناٹک بند کا کانگریس لیڈروں نے ایوان کے فلور پر دفاع کیاہے۔

رینوکاچاریہ بی جے پی کے ایم ایل اے ہونے کے ساتھ ساتھ چیف منسٹر بومئی کے سیاسی سکریٹری بھی ہیں۔ اس سے پہلے بھی رینوکاچاریہ متنازعہ بیان دیتے رہے ہیں۔ اس سے قبل پرینکاگاندھی کے ایک ٹویٹ کے جواب میں رینوکاچاریہ نے کہا تھا کہ کانگریس جنرل سکریٹری کا اپنے بیان میں بکنی جیسے الفاظ کا استعمال ایک نچلی سطح کا بیان ہے۔ کالج میں پڑھتے وقت بچوں کو مکمل لباس پہننا چاہیے۔ آج عصمت دری خواتین کے لباس کی وجہ سے بڑھ رہی ہے کیونکہ مردوں کو اکسایا جاتا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کی عزت کی جاتی ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button