دہلی

بی جے پی کی معطل ترجمان نوپورشرما کی تلاش میں دہلی میں ممبئی پولس مگر ہاتھ خالی

نئی دہلی،17جون ( ہندوستان اردو ٹائمز ) ممبئی پولس کے افراد دہلی میں موجود ہیں مگر نوپور شرما ان کے ہاتھ نہیں لگ پائی ہیں۔ مبینہ طور پر اس کام میں دہلی پولس مدد نہیں کر رہی ہے۔ بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرماکچھ دنوں سے پوشیدہ ہیں۔

ایک نیوز چینل پر پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخانہ تبصروں کے سبب ملک وبیرون ملک سے احتجاج کی خبروں کے بعد کئی ریاستوں میں ان کے خلاف پولیس کیس درج ہیں۔ممبئی پولیس نے 28 مئی کو دہلی کی رہنے والی نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جب ان کے تبصرے سے ہندوستان اور خلیجی ممالک میں غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ ممبئی میں،رضا اکیڈمی کے جوائنٹ سکریٹری عرفان شیخ شکایت درج کرائی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ ممبئی پولیس کی ایک ٹیم جو دہلی میں نوپور شرما سے پوچھ گچھ کے لیے موجود ہے، مگر وہ ان سے نہیں مل سکی ہے۔مہاراشٹر کی وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ ممبئی پولیس کے پاس بی جے پی کی سابق ترجمان کو گرفتار کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔ممبئی پولیس کی ٹیم گزشتہ پانچ دنوں سے قومی راجدھانی میں ٹھہری ہوئی ہے اور نوپور شرما کی تلاش میں ہے۔نوپورشرما کو ترنمول کانگریس اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری ابوسہیل کی شکایت کی بنیاد پر کولکاتہ پولیس کی طرف سے درج کرائی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ یا ایف آئی آر کا بھی سامنا ہے۔

کولکاتہ پولیس نے انھیں 20 جون کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا ہے۔ دہلی پولیس نے نوپور شرما کے خلاف پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے تبصرے پر ایک اور ایف آئی آر درج کی ہے۔انھیں بی جے پی نے اس وقت معطل کر دیا تھا جب ٹی وی پر پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے تبصرے پر ایران، عراق، کویت، قطر اور سعودی عرب سمیت کم از کم 15 ممالک سے شدید ردعمل اور سرکاری احتجاج سامنے آیا تھا۔کئی خلیجی ممالک نے ہندوستانی سفیروں کو طلب کیا تھا اور بی جے پی کے ترجمانوں کے اسلام مخالف بیانات پر مذمت کا اظہار کیا تھا۔ حالانکہ انھوں نے اپنا بیان غیر مشروط طور پر واپس لے لیا تھا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button