اہم خبریں

ہماچل پردیش میں ہندو تنظیموں کی شرانگیزی !

ہماچل پردیش میں ہندو تنظیموں کی شرانگیزی ! 
جے شری رام اور وندے ماترم کے نعرے لگاتے ہوئے نماز کے لیے نصب ٹینٹ کو اکھاڑ دیا،کہا ’ہماچل پردیش کو میرٹھ، کیرانہ او ربنگال نہیں بننے دیاجائے گا‘

تصویر

 شملہ ۔ 06؍جولائی 2019 سرکاری زمین پر نماز بنام ہنومان چالیسہ کا ہنگامہ اب ہماچل پردیش کے اونا تک پہنچ گیا ہے۔ معاملہ اونا کے ٹہالیوال بازار کا ہے جہاں جمعہ کو سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ نے ٹہالی وال بازار میں جم کر احتجاج کیا، ٹہالی وال کے ننگل گائوں میں نماز کےلیے لگائے گئے ٹینٹ کو اکھاڑ پھینکا دیا او ر مختلف ہندو تنظیموں کے لوگوں نے وہاں ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا۔ پولس او رمقامی لیڈروں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہاں نماز پڑھنا ترک کردیں جسے مسلمانوں نے قبول کرلیا ہے جس کی وجہ سے حالات قابو میں ہے فی الحال موقع پر بھاری تعداد میں پولس تعینات ہے اور انتظامیہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پورے ہنگامے کی جڑ نگرپنچایت کی زمین ہے جس پر برسوں سے مسلم سماج کے لوگ نماز پڑھتے آرہے ہیں، ہندو کمیونٹی کا الزام ہے کہ عوامی زمین پر جمعہ کو ہونے والی نماز میں مقامی مسلموں کے علاوہ پنجاب، دہلی، ہریانہ سے بھی تقریباً دو تین ہزار مسلمان پہنچتے ہیں جس سے سڑک پر جام کی حالت پیدا ہوجاتی ہے اور پورے علاقے کا ماحول خراب ہورہا ہے۔ حالانکہ گائوں کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم ۱۹۸۳ سے ہی اس جگہ پر نماز پڑھ رہے ہیں اور اس زمین پر عدالت میں مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ ہندو تنظیموں کے لیڈروں کا الزام ہے کہ مسلم کمیونٹی کے ذریعے سرکاری زمین پر جبراً قبضہ کیا گیا ہے اور یہاں نماز پڑھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ، انہوں نے اعلان کیا کہ ہماچل پردیش کو میرٹھ، کیرانہ اوربنگال نہیں بننے دیاجائے گا۔ نماز کو لے کر ہنگامہ اور کشیدگی کی خبر جب پولس تک پہنچے تو وہ بھی پوری نفری کے ساتھ وہاں پہنچ گئی او رلوگوں کو پرامن طریقے سے رہنے کی تلقین کی۔ہندو تنظیموں کے لیڈروں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ٹہالی وال بازار سے لے کر متنازعہ جگہ تک ایک ریلی نکالی بھیڑ نے اس دوران جے شری رام، ویر بجرنگی، وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگائے، مشتعل بھیڑ نے متنازعہ جگہ پر نماز کے لیے نصب ٹینٹ کو بھی اکھاڑ دیا اور ہنومان چالیسا کا اہتمام کیا۔ سڑکوں پر نماز کے جواب میں ہنومان چالیسا کے پاٹھ کی تصویر بنگال سے آتی رہی ہیں لیکن اب ہماچل میں بھی اسے لے کر ہنگامہ شروع کردیاگیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close