بہارپٹنہ

آئین و جمہوریت کی بالادستی ، نفرت و فرقہ واریت کا خاتمہ حالات کا تقاضا ، مفتی رضوان قاسمی

ارریہ ( عبدالغنی) بزم روضتہ الاطفال مہچندہ کے زیراہتمام ، استاد القراء حضرت مولانا قاری محمد فخرالدین صاحب کی صدارت اور مولانا محمد اقبال اشاعتی استاد مدرسہ حسان بن ثابت میوات کی نظامت میں منعقد عظیم الشان تعلیمی بیداری اور اتحاد ملت کانفرس آغاز قاری عبدالمنان کی تلاوت ، شاعر اسلام قاری انور نیازی کی حمد و نعت اور جناب مولانا مفتی محمد احسان قاسمی کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا اس موقع پر اجلاس سے دردمندانہ خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت علماء سیمانچل کے صدر جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ نے کہا کہ مہچندہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنا عظیم الشان تعلیمی بیداری و اتحاد ملت کانفرس کے انعقاد کے لئے میں یہاں کے تمام لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ پروردگار اپنے شایانِ شان آپ سبھوں کو اس کا بدلہ عنایت فرمائے ابھی چند دنوں قبل دیکھتے ہی دیکھتے رمضان کا مقدس مہینہ گزر گیا بڑے خوش نصیب رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو رمضان المبارک میں روزے رکھ کر تراویح پڑھ کر اور ہر طرح کے خرافات سے بچ کر مختلف اعمال صالحہ کے ذریعے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن بڑے افسوس کی بات یہ بھی رہی کہ ہمارے بہت سے بھائی ایسے بھی ٹھہرے جنہیں رمضان المبارک کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا وہ ہمیشہ کی طرح مزے سے کھاتے پیتے رہے اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میں صدیوں پرانی آپسی بھائی چارے اور قومی یکجہتی کو تار تار کرنے کی کوشش اور رونما ہونے والے فرقہ وارانہ کشیدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اپنی قوم کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج ملک کی سیاست کا رخ اور ماحول بدلتا جا رہا ہے یکے بعد دیگرے وہم و گمان سے باہر کی تبدیلیاں رونما ہوتی جا رہی ہے ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب خود اپنے آپ کا محاسبہ کریں جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں دیا ہے تو سمجھ میں آ جائے گا کہ آج مسلمان قوم پر جو حالات آ رہے ہیں اس میں کسی خاص جماعت یا گروہ کو قصوروار ٹھہرانا زیادہ مناسب نہیں بلکہ ہمارے عمل نے خود اس کو ہم پر مسلط کیا ہے جیسا کہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جیسا تمہارا عمل ہوگا ویسا حاکم تمہارے اوپر مسلط کر دیا جائے گا ” انہوں نے اپنے درد مندانہ خطاب میں حاضرین سے کہا کہ اتنا سب کچھ کے باوجود آج بھی مسلمانوں میں آپسی اتحاد و محبت کی جگہ باہمی تنازعات ، کمزوروں کو سہارا دینے کے بجائے آگے بڑھنے والوں کو پیچھے دھکیلنے کا رجحان ، اپنے بڑوں کی ماننے کے بجائے ان پر انگلیاں اٹھانے کا مزاج ، تعلیم وتربیت کے حصول کا فقدان ، روز مرہ کے شرعی احکام پر عمل سے دوری عام بات ہے صدر مرکزی جمعیت علماء سیمانچل جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ نے کہا کہ
اللہ تعالٰی نے انسانوں کو پیدا کرکے انبیاء کرام کے ذریعہ برابر رہنمائی و ہدایت کا انتظام فرمایا سب سے آخر میں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرماکر ایک جامع و مکمل نظام حیات بخشا اسی کامل اور مکمل نظام حیات کا نام اسلام ہے جس میں تمام انسانیت کیلئے زندگی اور توانائی ہے اس کی بنیاد کسی سطحی جذبات یا رسم و رواج پر نہیں بلکہ قرآن وحدیث پر ہے جو اللہ اور اس کے رسول کا بنایا ہوا قانون ہے آج اس دور پر فتن میں دنیا بھر کے لوگوں کو مساوات کے نام پر بڑھ رہے جابرانہ نظام کے خلاف اس نعمت خدا وندی سے فائدہ اٹھانا اور روشنی حاصل کرنا چاہئے تاکہ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والی قوم اپنی کمی کوتاہی دور کرکے منزل کو پا سکے انہوں نے نے اکھنڈ بھارت کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے موجودہ جمہوری نظام کی حفاظت ، آئین کی بالادستی اور ملک بھر میں پھیل رہی نفرت و فرقہ واریت کی دیوار کو منہدم کرنے کو یقینی بنانا وقت کا تقاضا ہے انہوں نے جاری اپنے فکر انگیز خطاب میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی بعض حلقوں سے چھوڑے جا رہے شوشوں پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ حکومت کو پیش کی گئی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں ہمارے ملک کے ذمہ داروں نے ہندو میرج ایکٹ ، ہندو انہرٹینس ایکٹ وغیرہ تیار کرنے میں اسلام کے قانون نکاح وطلاق ، نفقہ اور وراثت سے روشنی لی ہے ہندوستان کے مسلم دور حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سبھوں کو اپنے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی پوری آزادی تھی مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد جب انگریزوں کا دور شروع ہوا تو انگریزی عدالتوں نے اس بات کی بھر پور کوشش کی کہ مسلمانوں کے معاشرتی شرعی مسائل کا حل ان کی شریعت کے مطابق ہو اور اس کام کے لئے ایسے علمائے کرام کو قاضی مقرر کیا جاتا تھا جو پوری طرح شریعت سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی روح سے بھی آشنا ہوتے پھر اس کام کو مزید آسان بنانے کے لیے اس وقت فقہ و فتاوی کی مشہور کتاب ھدایہ اور عالم گیری وغیرہ کا انگریزی ترجمہ کرایا گیا جو بڑی حد تک ناقص و ناکافی رہی تعبیریں اور غلطیوں سے بھری ہوئی تھی وقت گزرنے کے ساتھ بی انگریزی حکومت نے مسلمانوں کے سول اور دیوانی معاملات کو انگریزی عدالتوں کے حوالے کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فیصلہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو شریعت کے قانون سے باکل بے خبر اور مسلمانوں کے معاشرتی مسائل سے لا علم ، مسلمانوں کےمعاملات و مقدمات انگریزی عدالتوں میں جا رہے تھے جس کو روکا بھی نہیں جا سکتا تھا مگر علماء کرام نے شرعی قوانین کی بقا اور نفاذ کی جدوجہد کو جاری رکھا ایک طرف عام مسلمانوں میں شرعی قوانین کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کیا تو دوسری طرف دارالقضاء قائم کرکے مسلمانوں کو متبادل موقع فراہم کیا اور اسلامی قوانین کو ہندوستانی آئین کا حصہ بنانے کی کوششوں سے رخ نہیں پھیرا ایسے حالات میں قانون شریعت کی حفاظت اور اس کے نفاذ کے لیے علماء کرام کی فکر تھی کہ کسی بھی طرح مسلمانوں کے لیے اسلامی قانون پر عمل کا راستہ کھلا رہے اسی لیے علماء کرام نےشرعی قوانین پر عمل کا دروازہ کھلا رکھنے کیلئے ایسی مئوٹر حکمت عملی اختیار کی جس کے نتیجے میں انگریزی حکومت کو مسلمانوں کے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑا اور انگریزی حکومت نے 1937ء میں شریعت ایپلیکیشن ایکٹ منظور کیا جس میں اس بات کی صراحت کی گئی کہ نکاح، طلاق، رضاعت، حضانت ، نفقہ ، ولایت ، وصیت ، وقف ، وراثت وغیرہ سے متعلق مسائل مسلمانوں کیلئے شریعت کی روشنی میں حل کیے جائیں بات آئی گئی اور یہاں پر ختم ہو گئی لیکن تقسیم ہند کے بعد جب 15/ اگست 1947ء کو ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو گیا اور 26/ جنوری 1950ء کو ہندوستان کا نیا قانون نافذ ہوا تو اس میں دستور سازوں نے 1937ء کے شریعت ایپلیکیشن ایکٹ کو ہو بہو (بعینہ) برقرار رکھا اور آزاد ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء کو دستور ہند کا حصہ بناتے ہوئے اس بات کی مکمل آزادی دی گئی کہ ملک میں مسلمان اپنے عائلی شرعی قوانین پر پوری آزادی کے ساتھ عمل کریں گے ساتھ بی حکومت مسلمانوں کے مدارس ، مساجد ، خانقاہوں ، آمام باڑوں ، اپنی مرضی کے تعلیمی اداروں کے قیام ، اور مسلمانوں کے زبان و تہذیب کی حفاظت اور آزادی کو ہر حال میں یقینی بنانے گی اس سب کے باوجود تقسیم ہند کے بعد یہاں رہ جائے والے برادران ملت اسلامیہ کو جن مصائب و مشکلات اور صبر آزما حالات کا سامنا ہے ان میں جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ پریشان کن بات دین و مذہب پر عمل کرنے کی آزادی سے محرومی کا خطرہ رہتا ہے جس کا نظارہ وقتا فوقتا ہندو احیاء پرستی کی جارحانہ تحریکوں اور پورے ملک کو بھگوا رنگ میں غرق کر دینے کے عزم سے ہوتا رہتا ہےاور اس وقت یہ تصویر صاف صاف جھلک رہی ہے ، رہی بات مسلم پرسنل لاء کی تو ملک میں رائج قوانین کی دو اہم قسمیں ہیں پہلا سول کوڈ : دوسرا کریمنل کوڈ : کریمنل کوڈ کے اندر جرائم کی سزائیں اور دوسرے انتظامی امور آتے ہیں جو تمام باشندگان ملک کے لیے برابر ہیں اس میں کسی قسم کی تفریق رنگ و نسل زبان و تہذیب کی بنیاد از روئے دستور نہیں ہے جبکہ سول کوڈ کے دائرے میں وہ تمام قوانین آتے ہیں جن کا تعلق معاشرتی تمدنی تہذیبی جیسے امور سے ہیں اس کے بھی بیشتر قوانین تمام باشندگان ملک کے لیے یکساں ہیں لیکن اس کے ایک حصہ کو ( جسے پرسنل لاء کہتے ہیں ) خصوصی شعبوں میں ملک کی اقلیتوں کو جن میں مسلمان بھی شامل ہیں الگ الگ مذہبی قوانین پر اپنے اپنے مذہب کے لحاظ سے عمل کرنے کی پوری آزادی کا اختیار دیا گیا ہے ( اسی اختیار کا نام پرسنل لاء کی آزادی ہے ) ان قوانین پر عمل درآمد کرکے جہاں الگ الگ مذہب و تہذیب کے لوگ اپنے آپ میں امن چین اور سکون محسوس کرتے ہیں وہیں یہ قوانین ملک کے دستور کا حصہ ہیں اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں ہم اپنے وطن عزیز کی مثال کثرت میں وحدت سے دیتے ہیں اور یہی گنگا جمنی تہذیب کہلاتی ہے ایسے میں کبھی بھی کسی بھی حلقے سے یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی کوشش اتحاد کے نام پر وطن عزیز کے استحکام کو متزلزل کرنا ہے اس کے نفاذ کی کوششوں کو ناعاقبت اندیشی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا ، پرسنل لاء کی حفاظت کیلئے ماضی کے مشاہدات کے نتیجے میں اس ملک میں بسنے والے کڑوروں اقلیتوں کو دستور میں دیئے گئے اپنے بنیادی حقوق کی حفاظت کی خاطر بیدار مغز اور دور اندیش رہنا چاہئے مسلکی اختلاف سے بالا تر ہو کر اجتماعی جدوجہد نے ملت اسلامیہ ہند کو باد مخالف میں بھی کامیابی دی ہے اور اگر ایسے حالات آئے تو انشاءاللہ پھر کامیابی ملے گی صدر مرکزی جمعیت علماء سیمانچل جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے مسلمانوں سے سیاسی جماعتوں اور دوسروں کو کوسنے کے بجائے اپنے آپسی تعاون و اشتراک کو مضبوط اور ملکی و سماجی سطح پر فکر میں یکسانیت پیدا کرنے کی اپیل کے ساتھ ہی مسلم نوجوانوں سے غیر اسلامی رسم و رواج سے پرہیز اور مثالی صالح معاشرہ کے قیام کیلئے سماج میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے بہانے قرآن کا قانون چھیننے کے بجائے مودی حکومت ملک کے مسلمانوں سے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سائنس دینے کے وعدے پورا کرے اور بھاجپا حکومت کا مول منتر سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا اثر ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں پر بھی نظر آئے اس موقع پر جامعہ رحمانی مونگیر کے استاذ تفسیر حضرت مولانا مفتی جنید احمد قاسمی نے قرآن کی تعلیم کو عام کرنے پر زور دیتے ہوئے لوگوں کو آپس کے اختلاف سے گریز کرنے کی تلقین کی اس موقع پر بڑی تعداد میں مقامی علمائے کرام نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جن بطور خاص مدرسہ دعوت الاسلام مہچندہ کے ناظم مولانا محمد ہارون صاحب ، مدرسہ رحمانیہ سوپول کے استاذ قاری محمد نواز ، مدرسہ اسلامیہ نوادہ کے نائب ناظم مولانا محمد حارٹ اشاعتی ، مولانا محمد سجاد قاسمی ، مولانا محمد امتیاز ندوی شامل ہیں جبکہ مولانا محمد شافع قمر اشاعتی ، مولانا محمد شاھد اشاعتی مولانا عبدالرزاق رحمانی ، حافظ محمد نسیم سمیت مہچندہ گاؤں کی معزز شخصیات آخر تک رونق اسٹیج رہے نصف شپ کے قریب جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی کی رقت آمیز دعاؤں پر اجلاس ختم ہوا اور علاقے کے مشہور تاجر و محرک اجلاس حافظ محمد ثمیر الدین صاحب قاسمی نے کلمات تشکر پیش کیا

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button