یوپی

الیکشن کمیشن اور حکومت تباہ کن نتائج کی توقع کرنے میں ناکام ، الہ آباد ہائی کورٹ کاسخت تبصرہ،ریاستی حکومت کے انتظامات بھی سوال اٹھائے

لکھنؤ12مئی(ہندوستان اردو ٹائمز) چنئی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کوکوروناکاذمے داربتایاہے اورسیدھے سیدھے اس پرسخت تبصرہ کیاہے۔اب الہ آباد ہائی کورٹ نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن ، اعلیٰ عدالتیں اور حکومت کورونا کے وسط میں اسمبلی اور پنچایت انتخابات کرانے کے اپنے فیصلے پر اس کے تباہ کن نتائج کی توقع کرنے میں ناکام رہیں۔ یہ تبصرہ پیر کو ہائی کورٹ کے جسٹس سدھارتھ ورما کی سنگل بنچ نے کیاہے۔معلوم ہوکہ یوپی حکومت کی ضدرہی کہ بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں جس کے بعدیوپی میں کوروناتیزی سے پھیل گیا۔عدالت نے یہ تبصرہ ایک کیس میں خصوصی بنیادوں پر غازی آباد کے ایک بلڈر کو جنوری 2022 تک گرفتاری سے بچنے کی اپیل کے دوران کیا۔ اترپردیش پولیس نے اس بلڈر کے خلاف جائیداد رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ عدالت نے وہ خصوصی بنیاد بھی بیان کی جس پر تحفظ دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہاہے کہ وبا جیسی وجوہات کی وجہ سے موت کا خوف کسی ملزم کو پیشگی ضمانت دینے کی بنیاد ہوسکتا ہے۔ 18 صفحات پر مشتمل اس حکم میں عدالت نے کوویڈ کی صورتحال پر متعدد تبصرے کیے ہیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ کوئڈ کا انفیکشن اب اتر پردیش کے دیہات تک پہنچ چکا ہے اور حالیہ پنچایت انتخابات نے اس کوتیز کردیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کو شہری علاقوں میں کورونا پر قابو پانے میں پریشانی کا سامنا کرناپڑرہاہے اوراب دیہات میں بڑھتے ہوئے معاملات میں یہاں ٹیسٹ ، ٹریسنگ اور ٹریٹمنٹ بہت مشکل ہوجائے گا۔ریاست کے پاس اس کے لیے تیاری اوروسائل بھی نہیں ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close