یوپی

جماعت اسلامی ہند نے ملت کے تلووں کو زخمی کرنے والے کانٹوں کو چننے کی کوشش کی ہے،نو منتخب امیر جماعت اسلامی ہند رام پور مولانا عبد الخالق ندوی کا اخباری نمائندوں سے اظہار خیال

رام پور:( پریس ریلیز )بیسویں صدی کی چوتھی دہائی کا آغاز ہوتے ہوتے ہندوستان میںاس عظیم اسلامی تحریک کی ابتدا ہوئی جس کو بر صغیر ہند و پاک میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک منظم اور فعال تحریک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جس نے عالم اسلام کی سیاست و معاشرت پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں اور صالح نوجوانوں کی ایسی نسل تیار کردی جو غیر اسلامی نظریات، فحاشی اور مغربی اثرات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کی مزاحمت کررہے ہیں۔ یہ اسلامی تحریک کم و بیش ہر قابل لحاظ اکثریت رکھنے والے ملک میں کسی نہ کسی نام سے سرگرم ہے۔ بر صغیر ہندو پاک میں تحریک کی عملی سرگرمیوں کا نام جماعت اسلامی ہے۔ یہ بات ایک سوال کے جواب میں مقتدر عالم دین، متعدد کتابوں کے مصنف، نو منتخب امیر جماعت اسلامی ہند رام پور نے کہی۔ شیخ الحدیث مولانا عبد الخالق ندوی نے اس سوال کہ کیا جماعت اسلامی ایک مقام پر آکر ٹھہر گئی ہے اور اس پر فکری جمود طاری ہے، کے جواب میں کہا کہ ہر تحریک کی کچھ نمایاں خصوصیات اور نمایاں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس کو اچھا سمجھنے والوں کی نظر سے خامیاں چھپی رہتی ہیں۔ جبکہ کمزوریاں ڈھونڈنے والوں کو خوبیاں دکھائی نہیں دیتیں بلکہ وہ خوبیوں کو بھی خرابیوں کے لبادہ میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں۔چنانچہ اس افراط و تفریط میں تحریک گم ہوجاتی ہے اور عصبیتیں پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو کر حشر سامانیاںڈھاتی ہیں کہ تاریخ خون کے آنسو روتی ہے اور عصبیت کی تلوار سے سربریدہ لاشیں تڑپتی نظر آتی ہیں۔ یہ عصبیتیں اتنی طاقت ور ہوتی ہیں کہ اپنے حصہ کے پانی پر قبضہ کے لئے صفیں آراستہ ہوجاتی ہیں۔ یہ تکلیف دہ سلسلہ صدیوں پرانا ہے اور نہ جانے جونک زدہ روایت کب تک لہو پیتی رہے گی۔ مولانا عبد الخالق ندوی نے کہا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جماعت اسلامی اس مرض سے کوسوں دور ہے۔ مولانا عبد الخالق ندوی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہندوستان کی سخت زمین سے وہ تمام کانٹے چننے کی کوشش کی ہے جو امت مسلمہ کے تلووں کو زخمی کررہے ہیں۔ فرقہ واریت اور مسلکی عصیبت کی دیواریں ڈھا کر ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کا تصور پیش کیا۔ بتان رنگ و خوںکو توڑ کر ملت میں گم ہونے کی تعلیم نے اسے معاشرہ میں باوقار مقام عطا کیا۔ جہاں تک اس کی انفرادیت کا سوال ہے تو وہ کئی لحاظ سے ہے مثلاً جماعت اسلامی نے اسلام کا تعارف بحیثیت ایک مکمل نظام زندگی نہایت مدلل اور دلنشیں انداز میں کرایا اور ذہنوں سے یہ بات نکالی کہ دین اور دنیا زندگی کے دو الگ الگ دائرے ہیں۔ اس نے دہریت و الحاد کے دور میں اسلام کے تحریکی نظام کا چراغ روشن کیا اور ایک عظیم الشان لٹریچر فراہم کیا۔ اس قافلہ نے اپنی ناتواں بے سروسامانی اور طرح طرح کی آزمائشوں سے گزرتے ہوئے قرآن مجید کا ترجمہ ہندوستان کی تقریباً ہر زبان میں شائع کرایا تاکہ برادران وطن بھی اپنے رب کے پیغام سے آشنا ہوسکیں۔ نئی نسل کی اسلامی خطوط پر تعلیم و تربیت کے لئے جماعت اسلامی نے جو درسیات تیار کرائیں، وہ اس کا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ دوسرے جماعت اسلامی نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ دعوت دین ایک فریضہ ہے جسے امت مسلمہ کے ہر فرد کو پورا کرنا چاہئے۔ جو لوگ صرف انفرادی عبادتوں اور نیکیوں پر مطمئن بیٹھے رہیں گے اور شہادت حق کا فریضہ ادا نہیں کریںگے وہ سخت کوتاہی کے مجرم ہوں گے اور ان سے باز پرس ہوگی۔ مولانا عبد الخالق ندوی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دین و سیاست کی علیحدگی کے تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ مولانا عبد الخالق ندوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں جو کام ہم نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے یعنی اخلاقی اصولوں پر دنیا کی اصلاح کرنااور دنیا کے نظم کو درست کرنا اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اخلاقی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو دنیا کا صالح ترین گروہ ثابت کرکے دکھائیں۔ جس طرح ہمیں دنیا کے بگاڑ پر تنقید کا حق ہے اسی طرح دنیا کو یہ دیکھنے کا حق ہے کہ ہم انفرادی و اجتماعی طور پر کیسے رہتے ہیں اور کیسا برتاؤکرتے ہیں۔یاد رہے کہ مولانا عبد الخالق ندوی میقات مارچ 2023 تک اپنے منصب پر فائز رہیں گے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close