یوپی

ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی کا سانحہ ارتحال اردو زبان وادب کا ناقابل تلافی نقصان

لکھنؤ (ہندوستان اردو ٹائمز) منشی احتشام علی علوی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام رازی ہاؤس میں ایک تعزیتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا سوسائٹی کے صدر مولانا فیروز خان ندوی نے انتہائی رنج وغم کے ساتھ حال ہی میں ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک مایہ ناز فرزند ساینس اسلامیات اور اردو زبان وادب میں کیٔ گرانقدر تصنیفات کے لایق وفایٔق مصنف ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی کے سانحہ ارتحال کو اردو زبان وادب کا ناقابل تلافی نقصان بتایا مولانا ندوی نے کہا کہ اردو کے فروغ وارتقا میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اور ہمیشہ تحقیق وتصنیف میں سرگرداں رہنے والے مرحوم صدیقی صاحب ایک مخلص اور بے لوث خادم اردو تھے نام نمود شہرت وریاکاری سے دور ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی صاحب کی ذات اردو زبان وادب کے حوالہ سے ایک ہمہ گیر اور جامع شیخصت تھی مگر شہر نگاراں ہی میں ان کی ادبی خدمات کو کماحقہ نہیں سراہا گیا جو افسوس ناک ہے
معروف سماجی کارکن مولانا محمد علی نعیم رازی نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی کی دیگر تصانیف سے صرف نظر اسکول اور کالج کے طلباء وطالبات کے لئے ان کی مرتب کردہ بیت بازی کی کتابیں ایک قابل قدر خدمات ہے جس کا تجربہ انہوں نے الھدیٰ ماڈل اسکول طلباء وطالبات کے درمیان کیا طلباء میں شعری ذوق کو پیدا کرنے میں ڈاکٹر شمیم صاحب کی مذکورہ کتاب کا اہم کردار رہا ہے جس کو الھدیٰ ماڈل اسکول کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا
اس موقع پر مفتی عبد اللہ انجم نقشبندی نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغین کی ایک کثیر تعداد لکھنؤ میں موجود ہیں مگر تحقیقی وتصنیفی میدان میں اور اردو زبان وادب کے فروغ میں جو خدمات ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی کی رہی وہ موجودہ تناظر میں علیگ برادری لکھنؤ میں دور دور تک نظر نہیں آتی مفتی صاحب نے کہا کہ علم و ادب تحقیق وتصنیف کے ساتھ ساتھ دینی عوامل کی پابندی مرحوم کے مزاج کا خاصہ تھا انہوں نے دعوت وتبلیغ کی بنیاد پر دور دراز علاقوں کے اسفار کۓ ان کا دعوت وتبلیغ سے بہت گہرا تعلق تھا مگر ان سب دعوت وتبلیغ کی سرگرمیوں کے انہوں نے اپنا رشتہ تحقیق وتصنیف سے کم نہیں کیا نقشبندی صاحب نے کہا کہ مرحوم بڑی خوبیوں کے مالک تھے اچانک ان کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا انتہائی رنج وغم کی بات ہے آخر میں مفتی صاحب کی پرسوز دعا پر نشست کا اختتام ہوا اس موقع مولانا شبیر احمد ثقافی،لقمان رضا ،قاری رحمت اللہ، مولانا عبد الوکیل، اور سید زبیر ندوی وغیرہ کثیر تعداد میں علماء و دانشوران شریک ہوئے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close