یوپی

ملک میں پہلی بار خاتون کو پھانسی دی جائے گی، تیاریاں مکمل

مرادآباد،17فروری ( آئی این ایس انڈیا ) ملک میں پہلی بار صوبہ یوپی میں کسی خاتون کو پھانسی دی جائے گی۔ قصوروار خاتون کو متھرا کی خواتین جیل میں پھانسی گھاٹ میں پھانسی دی جائے گی۔ پھانسی کب ہوگی اس کے لئے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے، تاہم پھانسی والے مکان کی مرمت اورپھندے کی رسیوں کا آرڈر دے دیا گیا ہے میرٹھ میں رہنے والے پون جلادنے بتایا کہ متھرا جیل کے افسران نے رابطہ کیا ہے ، کال آتے ہی پہنچنے کو کہا گیا ہے۔ خیال رہے کہ امروہہ کی رہائشی شبنم نے 13 سال قبل اپنے پریمی کے ساتھ مل کر کنبہ کے 7افراد کو کلہاڑی سے قتل کردیا تھا۔ 15 فروری کو صدرجمہوریہ کے ذریعہ ان کی رحم کی اپیل مسترد کردی گئی۔ شبنم اس وقت رام پور جیل میں بند ہے، جبکہ اس کا عاشق آگرہ جیل میںقید ہے۔خواتین کو پھانسی دینے کے لئے 1870 میں متھرا جیل میں پھانسی کا گھر بنایا گیا تھا، آزادی کے بعد سے اب تک اس پھانسی گھر میں کسی کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ شیلندر کمار نے برسوں سے بند پھانسی والے مکان کی مرمت کے لئے اعلی عہدیداروں کو ایک خط لکھا ہے، تاہم انہوں نے شبنم کو پھانسی دینے کے بارے میں معلومات سے انکار کیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ پھانسی والے گھر کی حالت خستہ ہے ، لہٰذا اس کی مرمت کے لئے ایک خط لکھا گیا تھا ۔امروہہ کے بابن کھیڑی گاؤں کی رہائشی شبنم نے اپنے پریمی سلیم کے ساتھ مل کر اپنے والد شوکت علی ، والدہ ہاشمی ، بھائی انیس احمد ، بھابھی انجم ، بھانجی رابعہ اور بھائی راشد کے علاوہ انیس کے 10 ماہ کے بیٹے عرش کو 15 اپریل کو قتل کردیا۔ سب کو پہلے بیہوشی کی دوا دے کر بے ہوش کیا گیا تھا پھر انہیں کلہاڑی سے قتل کیا گیا تھا، جب کہ عرش کا گلا گھونٹ کر ہلاک کیا تھا۔تفتیش میں انکشاف ہوا کہ شبنم حاملہ تھی ، لیکن اہل خانہ سلیم سے اس کی شادی کے لئے تیار نہیں تھے۔ اسی وجہ سے شبنم نے عاشق سلیم سے مل کر پورے گھر کے افراد کو موت کی ابدی نیند سلادیا ۔امروہہ ضلع کے اندر بابن کھیڑی گاؤں 2008 میں ضلع مراد آباد میں آتا تھا، اس وقت کے وزیر اعلیٰ مایاوتی نے امروہہ ضلع کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد بابن کھیڑی امروہہ میں چلا گیا اور بابن کھیڑی قتل کیس کی سماعت امروہہ ضلع کی ٹرائل کورٹ میں شروع ہوئی۔15 جولائی ، 2010 کو ٹرائل کورٹ نے ان دونوں کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔ شبنم نے بیٹے کے حوالے سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ستمبر 2015 میں یوپی کے گورنر رام نائک نے بھی شبنم کی رحم کی درخواست مسترد کردی تھی۔شبنم نے 14 دسمبر 2008 کو جیل میں ہی ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔ اس کا بیٹا جیل میں اس کے ساتھ رہا۔ 15 جولائی 2015 کو اس کا بیٹا جیل سے باہر آیا ، جس کے بعد شبنم نے بیٹے کو عثمان سیفی اور اس کی اہلیہ کے حوالے کردیا۔ عثمان بلندشہر میں عثمان شبنم کے کالج کا دوست ہے۔عثمان کو بیٹا سونپنے سے قبل شبنم نے دو شرطیں رکھی تھیں۔پہلایہ کہ اس کے بیٹے کو کبھی اس کے گاؤں نہ لے جایا جائے ، کیوں کہ وہاں اس کی جان کو خطرہ ہے اور دوسری شرط یہ تھی کہ بیٹے کا نام بدل دیا جائے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close