یوپی

لکھنؤ ’ہنرہاٹ‘کا29 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دورہ کیا ، ’ہنرہاٹ‘ کے ذریعے 9 لاکھ سے زیادہلوگوں کو روزگارکے مواقع فراہم کیے گئے: مختار عباس نقوی

نئی دہلی7فروری(آئی این ایس انڈیا) 29 لاکھ سے زیادہ لوگ ’ہنرہاٹ‘ دیکھنے گئے، جس کا ا نعقاد اودھ شلپ گرام، لکھنؤ (یوپی) میں 22 جنوری سے 7 فروری 2021 تک کیا گیا تھا۔ اور یہ لوگ دیسی ہنرمندوں اور دستکاروں کی کروڑوں روپئے کی مالیت کی ہاتھوں سے بنی ہوئی مصنوعات خرید کر ’’ووکل فار لوکل‘‘ مہم کو ’’قابل فخر فروغ دینے والے‘‘ بن گئے۔اودھ شلپ گرام میں ’ہنرہاٹ‘ کے اختتامی دن آج لکھنؤ میں میڈیا کے افراد سے بات کرتے ہوئے اقلیتی امور کے مرکزی وزیرمختار عباس نقوی نے کہاہے کہ ایک طرف تو ملک کے قریب قریب ہر علاقے کی بہت عمدہ دستی مصنوعات ایک چھت کے نیچے فراہم تھیں اور دوسری طرف یہاں آنے وا لوں نے ملک کے مختلف حصوں سے روایتی مزیدار کھانوں کا لطف لیا۔نقوی نے کہا کہ 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ہنرمندوں اور دستکاروں نے ہنرہاٹ‘ میں شرکت کی جس کا انعقاد لکھنؤ میں اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے کیا گیا تھا۔ تقریباً 500 ہنرمندوں ، دستکا’روں اور کھانہ پکانے والوں نے اس ہنرہاٹ میں شرکت کی جن کا تعلق آندھراپردیش، آسام، بہار، چنڈی گڑھ، چھتیس گڑھ، دہلی، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں وکشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، لداخ، مدھیہ پردیش، منی پور، ناگالینڈ، اڈیشہ، پڈوچیری، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تلنگانہ، اترپردیش، ا تراکھنڈ اور مغربی بنگال وغیرہ سے تھا۔ انھوں نے اپنی مصنوعات کی نمائش کی اور اپنی خوبصورت دستی مصنوعات فروخت کیں۔ہنرہاٹ میں بہت سی دیسی مصنوعات نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں مثلاً ازرق،جڑاؤ سامان، دھات کے برتن، باگ پرنٹ، باتک، بنارسی ساڑیاں، بندھیج، بستر کے نمونے اور جڑی بوٹیوں کی مصنوعات، بلاک پرنٹ، دھات کی چوڑیاں، بانس کی مصنوعات، کینوس پرنٹنگ، چکن کڑی، تانبے کی گھنٹی،سوکھے ہوئے پھول، ہینڈلوم کا کپڑا، قلم کاری، منگل گری، کوٹا سلک، لاک کی چوڑیاں، چمڑے کی مصنوعات، پشمینہ شالیں، رامپوری سارنگی، لکڑی اور لوہے کے کھلونے، کنٹھا کشیدہ کاری، پیتل کی مصنوعات، کرشٹل شیشے کا سامان، صندل کی لکڑی کی مصنوعات، لکڑی اور ویب کا فرنیچر وغیرہ۔ نقوی نے بتایاکہ لکھنؤکا’ہنرہاٹ‘ورچوئل اورآن لائن پلیٹ فارمhttp://hunarhaat.org پر بھی دستیاب تھا۔ ملک اور بیرون ملک کے لوگوں نے ’ہنرہاٹ‘ کی مصنوعات کی تعریف کی اور ان کی ڈیجیٹل اور آن لائن طریقے پر خریداری بھی کی۔ اب ’’ہنرہاٹ‘‘ جی ای ایم (گورنمنٹ ای پارکیٹ پلیس) پورٹل بھی دستیاب ہے۔مختارعباس نقوی نے کہاہے کہ پچھلے 6 برسوں کے دوران ہنرہاٹ‘ کے ذریعے پانچ لاکھ سے زیادہ ہنرمندوں اور دستکاروں کو اور ان سے وابستہ لوگوں کو روزگاریا روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close