یوپی

اے ایم یو میں وکٹوریہ گیٹ کے سامنے ڈیڑھ ٹن وزنی ٹائم کیپسول کو دفن کیا گیا

علی گڑھ26جنوری(آئی این ایس انڈیا) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدی سال کے موقع پر یونیورسٹی کی تاریخ کو محفوظ کرنے اور اس کی مالامال وراثت کو مستقبل کے لئے ایک ریکارڈ کے طور پر آئندہ نسلوں تک پہنچانے کے مقصد سے آج یوم جمہوریہ پر یونیورسٹی کی تاریخی عمارت وکٹوریہ گیٹ کے سامنے واقع پارک میں تیس فٹ گہری خندق میں 1.5 ٹن وزنی ٹائم کیپسول کو دفن کیا گیا۔ اعلیٰ معیار کے اسٹیل سے تیارشدہ اس ٹائم کیپسول میں خلیق احمد نظامی کا تیار کردہ سرسید البم، 187ء سے 1919 تک محمدن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ سے متعلق مضامین اور تقریریں (نواب محسن الملک کے ذریعہ تیار کردہ)، تھیوڈور موریسن کی ایم اے او کالج کی تاریخ، سرسید احمد خاں کی حیات و کارناموں پر مبنی جی ایف آئی گراہم کی کتاب، ہندوستان میں مسلم تعلیم کی جھلک از پروفیسر شان محمد ، جلد یکم و دوئم، 1920 کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایکٹ اور یونیورسٹی کے قوانین، سید احمد خان از پروفیسر کے اے نظامی، جہانِ سید از پروفیسر ایم عاصم صدیقی و ڈاکٹر راحت ابرار، حیات جاوید (اردو ) از الطاف حسین حالی، حیات جاوید (انگریزی ترجمہ از پروفیسر رفیع احمد)، حیات جاوید (ہندی ترجمہ از ڈاکٹر راجیو لوچن ناتھ شکل)، ہسٹری آف ایم اے کالج علی گڑھ از ایس کے بھٹناگر)، جلسہ تقسیم اسناد میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی تقریر، کنووکیشنس ایٹ اے گلانس (1920-2020)، محمدن اینگلو اورینٹل کالج کیلنڈر 1911-1912)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیلنڈر (1932)، اے ایم یو ڈائری 2020، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس کا سنگل کلر پرنٹ آؤٹ ، کارٹوسیٹ-2 سے 28؍اکتوبر 2018 کو لی گئی تصویر، اے ایم یو کے چانسلروں اور وائس چانسلروں کی فہرست، اے ایم یو کی ترتیب وار تاریخ (1920-2020) از ڈاکٹر راحت ابرار،22؍دسمبر 2020 کو صدی تقریب کے موقع پر وزیر اعظم شری نریندر مودی کی تقریر اور پوسٹل اسٹامپ، اور ٹائم کیپسول کے مشمولات اور اس کی پیش رفت کو رکھا گیا ہے۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ یہ ٹائم کیپسول مستقبل کی نسلوں کے فائدہ کے لئے ہے اور اس میں اے ایم یو کی قابل فخر تاریخ کو رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ٹائم کیپسول میں رکھے گئے دستاویز ات کو جدید سائنسی طریقہ سے محفوظ کیا گیا ہے۔ مشمولات کو رکھنے کے لئے ایسڈ فری اور کیمیکل فری کاغذ کا استعمال کیا گیا ہے۔پروفیسر منصور نے کہاکہ تاریخ روایات کو منتقل کرنے کے عمل سے شروع ہوتی ہے اور روایت ماضی کی عادات و رواجوں کو مستقبل میں لے جانے کا ہی نام ہے ۔ انھوں نے جارج سنتاینا کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جو لوگ ماضی کو یاد نہیں کرتے ہیں انھیں اسے دوہرانے کی تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔انھوں نے کہاکہ 8؍جنوری 1877 کو ایم اے او کالج کا سنگ بنیاد رکھتے وقت وائسرے اور گورنر جنرل لارڈ لِٹّن کے ذریعہ دفن کئے گئے کیپسول کو باہر نکالنے کے طور طریقوں پر غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ وائس چانسلر نے ٹائم کیپسول کمیٹی کے ممبران اے ایم یو رجسٹرار مسٹر عبدالحمید آئی پی ایس، پروفیسر مرزا فیصل ایس بیگ (مکینیکل انجینئرنگ شعبہ)، پروفیسر ایم کے پنڈیر (تاریخ شعبہ)، ڈاکٹر راحت ابرار، یونیورسٹی انجینئر راجیو کمار شرما ، ڈاکٹر محمد شاہد (ڈپٹی ڈائرکٹر، سرسید اکیڈمی)، عشرت عالم (صدر، شعبہ تاریخ)، یونیورسٹی لائبریرین ڈاکٹر محمد یوسف ، ڈاکٹر محمد ندیم (کمپیوٹر سائنس شعبہ)، ڈاکٹر محمد عرفان (میوزیولوجی شعبہ)، ڈاکٹر رضوان احمد (ریموٹ سینسنگ و جی آئی ایس اپلی کیشنز شعبہ) ، ڈاکٹر پرویز محمود (ڈائرکٹر، کمپیوٹر سنٹر) اور مسٹر پھول چند گونڈ (آئی آئی ٹی کانپور) کا شکریہ ادا کیا۔ رجسٹرار مسٹر عبدالحمید آئی پی ایس نے پروگرام کی نظامت کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close