یوپی

لوجہادپرمسلم نوجوانوں کو ایس پی لیڈر کا مشورہ،تشدد سے بچنا ہے توہندو لڑکیوں کو بہن تسلیم کرو

لکھنو،27 ؍نومبر( آئی این ایس انڈیا ) ملک میں لوجہاد پر بحث ہورہی ہے۔ اترپردیش حکومت نے قانون بنائے ہیں، لہذا بی جے پی کے زیر اقتدار متعدد ریاستی حکومتیں بھی قانون بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ادھر سماج وادی پارٹی کے رہنما ایس ٹی حسن نے کہا کہ جہاد ایک سیاسی اسٹنٹ ہے، میں مسلم نوجوانوں سے ہندو لڑکیوں کو بہنیں ماننے کی اپیل کروں گا۔ایس پی رہنما ایس ٹی حسن نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہزاروں سالوں سے جب بچے بالغ ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے شریک حیات کا انتخاب خود کرلیتے ہیں، ہندو مسلم سے شادی کرتا ہے، مسلم ہندو سے شادی کرتا ہے،حالانکہ بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے اگر آپ دیکھیں گے تومعلوم ہوگا کہ یہ شادی مرضی سے ہوگئی لیکن جب معاشرے کی طرف سے دباؤ پڑتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہمیں تونہیں معلوم تھا کہ یہ مسلم ہے۔ ایس پی رہنما ایس ٹی حسن نے مسلم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ہندو لڑکیوں کو اپنی بہن سمجھیں، اب ایسا قانون بنادیا گیا ہے، جس سے انہیں زبردست طریقے سے تشدد کیا جاسکتا ہے۔ اپنے آپ کو بچائیں اور کسی محبت کی زد میں نہ آکر اپنی زندگی بچائیں۔لوجہاد سے متعلق یوپی حکومت کے منظور کردہ آرڈیننس کے مطابق دھوکہ دہی کے ذریعہ شادی کے لئے مذہب تبدیل کرنے پر10 سال کی سزا ہوگی۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو تبدیل مذہب کے لیے دو ماہ قبل اطلاع دینی ہوگی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close