یوپی

یوپی: جبری تبدیلی مذہب کی تحقیقات کے لیے عبوری آرڈر منظور

لکھنو24نومبر(آئی این ایس انڈیا) الہ آبادہائی کورٹ نے صاف کردیاہے کہ شادی اورلائف پارٹنرمنتخب کرنے کاہرایک کوحق حاصل ہے۔کوئی ریاست اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔اس طرح عدالت نے مبینہ لوجہادپرحکومت کوپیغام بھی دے دیاہے۔اس انتباہ کے بعدیوگی حکومت نے ’جبری طور پر‘تبدیلی مذہب کی تحقیقات کے عبوری آرڈرکی منظوری دے دی ہے۔سرکاری محکمہ مبینہ لوجہادسے متعلق ایک مضبوط قانون تیار کرنے میں مصروف تھا۔یوپی کے محکمہ داخلہ نے لوجہادسے متعلق اس طرح کے سخت قانون کا مسودہ تیارکیااور اسے ریاستی وزارت قانون کو بھجوا دیا۔ ریاستی حکومت کے ترجمان نے کچھ دن پہلے ہی اس کی تصدیق کی ہے۔ مجوزہ قانون مبینہ طور پر شادی کے نام پر کسی خاتون کے تبادلے سے متعلق ہے جسے بی جے پی نے نیانام دیاہے۔وزیراعلیٰ نے مبینہ لوجہادسے متعلق سخت قانون کا اعلان کیا تھا۔ یوپی کے وزیرقانون برجیش پاٹھک نے 21 نومبر کو کہا تھا کہ ریاست میں اس طرح کے واقعات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، جس کی وجہ سے معاشرتی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کے واقعات ریاست کے امیج کو بھی خراب کرتے ہیں ، لہٰذاسخت قوانین وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ پاٹھک نے کہاہے کہ جیسے ہی ہمیں محکمہ داخلہ سے اس ضمن میں کوئی تجویز ملے گی ، ہم تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔اس کے لیے ضروری تیاریاں پہلے ہی کرلی گئی ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close