یوپی

یوپی راجیہ سبھا انتخابات: بسپا کے سات ممبرانِ اسمبلی باغی ،اندرونِ خانہ بھاجپا کی حمایت کا الزام

لکھنؤ ،28اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) یوپی کی 10 نشستوں پر ہونے والا راجیہ سبھا انتخابات نامزدگی کا عمل ختم ہوتے ہی معاملہ دلچسپ ہو گیا ہے۔ پرچہ نامزدگی کی تحقیق کاآج دن ہے۔ لیکن اس سے قبل بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے سات ایم ایل اے نے بغاوت کر دی ہے۔ ان میں سے چار ایم ایل اے نے بی ایس پی امیدوار رام جی گوتم سے اپنی تجویز واپس لے لی ہے۔ باغی ایم ایل اے میں شراوستی کے ایم ایل اے اسلم راعین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بی ایس پی کے جنرل سکریٹری ستیش چندر مشرا پر الزام لگایا ہے کہ انھیں دیکھ لینے اور قتل کرنے کی دھمکی دی تھی، اس تجویز سے دستبرداری کے بعد ارکان اسمبلی نے ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو سے ملاقات کی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ انتخابات کے دوران بی ایس پی کے یہ ممبران پارٹی کے خلاف ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ ایس پی سے رام گوپال یادو نے پرچۂ نامزدگی داخل کی تھی ۔ اسی کے ساتھ ہی ایس پی نے پرکاش بجاج کو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے۔ بی ایس پی کے ایم ایل اے کے بغاوت اور اکھلیش یادو سے قربت کی وجہ سے ایس پی اب دو سیٹوں پر مضبوط ہوگئی ہے۔ بی ایس پی سے رام جی گوتم کے علاوہ بی جے پی کے آٹھ امیدوار میدان میں ہیں۔ لیکن اس تجویز سے دستبرداری کے ساتھ ہی رام جی گوتم کا پرچۂ نامزدکی بھی مسترد ہوسکتا ہے۔ باعی ممبران اسمبلی کے اسماء یوں ہیں ۔ اسلم راعین بھینگا (شراوستی)اسلم علی ڈھولانا (ہاپوڑ)ہر گووند بھارگو سدھولی (سیتا پور) مجتبیٰ صدیقی پرتا پور (پریاگراج) حکیم لال بند ہنڈیا (پریاگراج) سشما پٹیل مونگرا، بادشاہ پور (جون پور)وندنا سنگھ سگڑی (اعظم گڑھ)۔باغی ممبران ا سمبلی میں سے اسلم علی نے کہا کہ ہمارا نام تجویز کرنے والوں میں شامل تھا۔ لیکن جب ہمیں معلوم ہوا کہ بی ایس پی بی جے پی کی حمایت سے امیدوار کو راجیہ سبھا بھیجنے کی کوشش کر رہی ہے ، تو ہم نے بغاوت کر دی۔ ہم بی جے پی کے خلاف ہیں، اور ہمیں اسی لئے ووٹ ملا۔ اگر یہ امیدوار بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا جاتا ہے تو ہم اس علاقے میں عوام کو کیا منھ دکھائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کل مایاوتی کے ساتھ بھی ہماری بات ہوئی ہے۔ ہم نے انہیں اپنا فیصلہ سنایا۔ اب پارٹی ہماری بغاوت پر جو بھی فیصلہ کرے گی ، ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ ایم ایل اے اسلم راعین نے کہا کہ ہم 4 ایم ایل اے نے حلف نامہ دیا ہے کہ بی ایس پی امیدوار کی نامزدگی میں ہمارے دستخط اور تصدیقات نہیں تھیں۔ رام جی گوتم نے جو نامزدگی داخل کی ہے، وہ سراسر غلط ہے۔ آج ہم 4 ایم ایل اے نے حلف نامہ دے کر اپنی تجویز واپس لے لی۔اس تجویز کو واپس لینے سے بی ایس پی امیدوار رام جی گوتم کا فارم مسترد ہوسکتا ہے۔ اگر فارم مسترد کردیا جاتا ہے تو پھر ایک امیدوار آزاد امیدوار پرکاش بجاج راجیہ سبھا پہنچ سکتے ہیں ۔ تاہم کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد پوری صورتحال سامنے آجائے گی۔ اگر دونوں امیدواروں کی نامزدگی کو مسترد کردیا گیا تو راجیہ سبھا انتخابات کے لئے نامزدگی کا عمل ایک نشست پر دوبارہ عمل میں لایا جائے گا۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بی ایس پی کے باغی ایم ایل اے نے 26 اکتوبر کو اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی، ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے ، ان تمام باغی ممبرانِ اسمبلی نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close