یوپی

ہاتھرس کیس:سپریم کورٹ سے یوپی حکومت کی درخواست – سی بی آئی جانچ کی کریں نگرانی

نئی دہلی،14 ؍اکتوبر( آئی این ایس انڈیا ) اترپردیش کے ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کی نگرانی سپریم کورٹ سے کرنے کی درخواست یوپی حکومت نے کی ہے۔ گزشتہ مہینے دہلی کے ایک اسپتال میں متاثرہ لڑکی کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد ہاتھرس انتظامیہ نے رات کے اندھیرے میں جلدی سے لڑکی کی آخری رسومات ادا کیں۔ سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت نے کہا کہ وہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ اور گواہوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ منگل کے روز سے سی بی آئی نے ہاتھرس کیس کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔یوپی حکومت نے آج سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ داخل کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ اور گواہوں کو تین درجے کی سکیورٹی دی گئی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار اس کے لئے تعینات کردیئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گاؤں کی سرحد کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔ وکیل سیما کشواہا متاثرہ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے مقدمے کی پیروی کررہی ہیں۔ دوسری طرف الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے بھی اس معاملے میں از خود نوٹس لیا تھا۔ اب وہاں اگلی سماعت 2 نومبر کو ہوگی۔ یوپی سرکار کے وکیل نے کہا کہ عدالت سی بی آئی کو تحقیقات کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کا حکم دے۔ نیز عدالت خود بھی اس کی نگرانی کرے۔ یوپی حکومت نے کہا ہے کہ عدالت سی بی آئی سے ریاستی حکومت کو ہر 15 دن بعد تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہہ سکتی ہے، جسے یوپی ڈی جی پی عدالت میں دائر کرسکتی ہے۔سپریم کورٹ میں ہاتھرس کیس سے متعلق اگلی سماعت 15 اکتوبر یعنی جمعرات کو ہوگی۔ عدالت نے بنیادی طور پر یوپی حکومت سے تین باتیں طلب کیا تھا۔ متاثرہ افراد کے لواحقین اور گواہوں کے تحفظ کے لئے کیا انتظامات کیے گئے ہیں؟ کیا غمزدہ کنبے کے پاس پیروی کے لیے کوئی وکیل ہے؟ اور الہ آباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی کیا صورتحال ہے؟ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے ہاتھرس کیس میں اگلی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close