دیوبند

یوپی کے مدارس کے نمائندہ اجلاس میں دارالعلوم دیوبند نے واضح کیا اپنا موقف

اہل مدارس سروے کی مخالفت نہیں بلکہ اس میں تعاون کریں : مفتی ابوالقاسم نعمانی

اہل مدارس دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا بھی بندوبست کریں : مولانا سید ارشد مدنی

دیوبند، 18؍ ستمبر (رضوان سلمانی) یوگی حکومت کے ذریعہ غیر سرکاری مدارس کا سروے کرانے کے متعلق ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں منعقد یوپی کے نمائندہ مدارس کے اجلاس میں دارالعلوم دیوبند نے سروے کے حوالہ سے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہاکہ اہل مدارس کو سروے کی مخالفت نہیں بلکہ اس میں تعاون کرنا چاہئے کیونکہ مدارس کے اندر کوئی بھی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے، اہل مدارس کو چاہئے کہ وہ اپنا حساب کتاب اور دستاویزات کو کو شفاف رکھیں اور مدارس کی تاریخ سے اہل وطن کو واقف کرائیں،

اجلاس میں شامل ہوئے سینکڑوں مدارس کے ذمہ داران نے بیک آواز مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور صدرالمدرسین مولانا سید ارشد مدنی کے ذریعہ پیش کردہ اس اعلامیہ کی حمایت کی،اجلاس دوران مدارس کے طلبہ کے لئے عصری تعلیم کا نظم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ مولانا ارشد مدنی نے ملک کی آزادی میںمدارس کے کردار پر روشنی ڈالی اور مدرسہ کے منتظمین کو کئی پہلوئوں پر مکمل جانکاری دی۔ انہو ںنے کہا کہ تمام مدارس میں ہائی اسکول تک عصری تعلیم کا لازمی انتظام کیا جائے، دارالعلوم دیوبندمیں بھی انشاء اللہ اس کا آغاز جلد ہوجائے گا۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مدارس ملک کے قانون کے تحت چلتے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ مدارس اسلامیہ میں مالی حساب وکتاب میں بطور خاص شفافیت کا خیال رکھا جائے ، اپنے طور سے سالانہ آڈٹ کرائیں ، آئندہ سالوں میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے نمائندے بھی مختلف مواقع پر مربوط مدارس میں حساب وکتاب کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ زمین جائیداد کے کاغذات مستحکم رکھیں ، اس سلسلہ میں بالکل بھی کوتاہی سے کام نہ لیں ، حالیہ سروے سے ہر گز تشویش میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ سروے ٹیم کے ساتھ اخلاق سے پیش آئیں اور مطلوبہ معلومات فراہم کرائیں ۔ ملک کو جیسے عصری تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح ملت کو اچھے عالم ومفتی اچھے حافظ وقاری ، اچھے امام ومؤذن اور اچھے دینی خدام کی بھی ضرورت ہے جو مدارس سے پوری ہوگی۔ اس لئے مدرسے اپنے نظام کے ساتھ چلتے رہیں گے ۔ حدود شرع میں رہتے ہوئے جائز معاملات میں حکومت کا ہر ممکن تعاون کریں ،مقابلہ آرائی کی فضا قائم نہ ہونے دیں۔ مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران اور متعلقین ہمت وحوصلہ اور باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ مدارس اسلامیہ سے وابستہ تمام لوگ رجوع الی اللہ کا خاص اہتمام کریں۔

مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مدراس کے ڈیڑھ سو سالہ تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سروے کے متعلق دارالعلوم دیوبند کا موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ مدارس اسلامیہ کو ذرہ برابر حکومت کے سروے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مدارس اسلامیہ کا ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر و ترقی کی بنیادی کردار ہے اسلئے سروے ٹیم کوادارہ کے متعلق مکمل معلومات دیں۔ بعد ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے واضح لفطو ں میں کہاکہ متنازعہ زمین پر بنائے گئے مدارس کی وہ قطعی حمایت نہیں کرتے ہیں اسلئے ایسے مدارس کے ذمہ داران کو از خود ان مدارس کو مناسب اور قانونی مقام پر منتقل کرلینا چاہئے۔ مولانا مدنی نے صاف کیا ہے انہیں سروے سے کوئی دقت نہیں ہے ،کیونکہ مدارس میں چھپانے کے لئے کچھ نہیں اور مدارس کے دروازے سب کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں اسلئے سروے سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،انہوںنے کہاکہ مدارس کا جو نظام ہے وہ مکمل ہے اسلئے ہمیں مدارس کے لئے سرکار کی کسی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button