ہندوستان

بدل ڈالے ہیں سارے نقش ہی چہرے کے غم نے یوں! یادگار رہا امروہہ فاؤنڈیشن کی طرف سے منعقدہ عالمی مشاعرہ

امروہہ (پریس ریلیز) امروہہ فاؤنڈیشن کے دس سال مکمل ہونے پر آن لائن عالمی مشاعروں کی پنج روزہ سیریز کا انعقاد کیا گیا جس میں روزانہ دو مشاعرے منعقد ہونا طے پایا تھا. چنانچہ اسی سلسلے میں گزشتہ شب تنظیم کی طرف سے ایک عالمی مشاعرہ "یاد وقار الملک” کا انعقاد کیا گیا .یہ مشاعرہ فاونڈیشن کے صدر و مشاعروں کے منتظم جناب فرمان حیدر نقوی کی رہنمائی میں منعقد ہوا.
اس موقع پر صدارت کے فرائض جناب ذوالفقار نقوی نے انجام دیئے. جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر رضی شامل ہوئے اس کے علاوہ مہمان ذی وقار کی شکل میں عابدہ سبحانی، مہتاب احمد، عباس دھالیوال اور راکیش دلبر نے مشاعرہ کو زینت بخشی. اس کے علاوہ دیگر شعراء میں ثروت زیدی، عبدل منان صمدی، ڈاکٹر بیگ، محترمہ گلشن انصاری، بلال علیگ، ذوالفقار زلفی اور عادل فراز نے مشاعرہ میں اپنے کلام سے ناظرین کو محظوظ فرمایا. مشاعرہ میں نظامت کے فرائض معروف شاعر و ادیب جناب سید بصیر الحسن وفا نقوی نے بحسن خوبی انجام دئیے .
اس سے قبل فاؤنڈیشن کے صدر جناب فرمان حیدر نقوی نے کہا کہ امروہہ فاؤنڈیشن ایک ایسی تنظیم ہے جو گزشتہ دس برسوں سے مسلسل خدمت خلق کے مختلف فلاحی کام انجام دے رہی ہے. اس کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی سرگرمیوں میں بھی اپنا فعال کردار انجام دے رہی ہے. انہوں نے کہا کہ تنظیم کا مقصد ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ عوام کو بیدار کرتے ہوئے خدمت خلق کے لیے آمادہ کرنا ہے اور ساتھ ہی اتحاد کے پیغام کو عام کرنا ہے.
اس موقع پر مشاعرہ میں شامل مختلف شعراء کی طرف سے جو کلام پیش کیا گیا ان میں سے چند منتخبہ اشعار یہاں قارئین کے لیے پیش کیے جاتے ہیں.
نہ جانے کیسا لگایا ہے پیڑ آنگن میں
وفا کا پیار کا جس پر ثمر نہیں آیا
(ذوالفقار نقوی جموں)
بچپنے میں کھل گیا سب پر کہ ہوں عاشق مزاج
چوڑیاں میں نے خریدیں جب ممانی کے لیے.
(ڈاکٹر رضی امروہوی)
زمیں کو خوب ستانے کے بعد آئے ہیں
سحاب اب کہ زمانے کے بعد آئے ہیں.
(عابدہ سبحانی کہکشاں لکھنوی)
منہ تکا کرتے ہیں بازار میں بکنے کے لیے
زندگی اپنی ہے اردو کے رسالوں کی طرح
(ثروت زیدی بھوپال)

بدل ڈالے ہیں سارے نقش ہی چہرے کے غم نے یوں
کہ مجھ سے اپنی صورت خود ہی پہچانی نہیں جاتی.
*********
ذہن و دل پر چھائے پتھر
پھول نظر کو آئے پتھر
رب کی مشیت سے چڑیوں نے
فیلوں پر برسائے پتھر
شام ڈھلے عباس کسی دن
تاج محل میں آئے پتھر
(عباس دھالیوال ضلع مالیرکوٹلہ پنجاب)
سورج کو احساس دلایا جا سکتا ہے
جگنو سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے
(راکیش دلبر سلطان پوری)
سب اپنی تشنہ دہانی کا ذکر کرتے ہوئے
ندی میں ڈوب گئے جام اپنے بھرتے ہوئے
(سید بصیرالحسن وفا نقوی)
نفرت کرنا میرے بس کی بات نہیں
اور محبت جیسے بھی حالات نہیں
(مہتاب احمد)
گزر گئی ہے وہ بڑھیا جو دیپ رکھتی تھی
چراغ کون جلائے گا رہ گزر کے لیے
(محمد عادل فراز علی گڑھ)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close