ہندوستان

نماز عید سادگی کے ساتھ گھروں میں ہی ادا کرنے کی اپیل

گلبرگہ22مئی(آئی این ایس انڈیا) ڈاکٹرمحمد اصغرچلبل رکن آل انڈیا ملی کونسل و ترجمان پیوپلس فورم گلبرگہ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ ہوئے کہا کہ پچھلے 6ماہ کے دوران ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کو چھیننے ،ہراساں کرنے ، شریعت میں مداخلت ،ہجومی تشدد، این آر سی ، این پی آر، سی اے اے جیسے کالے قانون کا نفاذ جیسے واقعات ہورہے ہیں ۔ پھرکچھ الیکٹرانک میڈیا زاور پرنٹ میڈیاز میں مسلمانوں کو کورونا وائرس وباء پھیلانے کاذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔

پھراس دوران ملک کے دیگر مقامات اور دہلی میں ہوئے فسادات میں کئی نوجوانوں کو شہید بھی کردیا گیا، جیلوں میں ڈالاگیا، کئی مسلمانوں پرسیشکن 144کی خلاف ورزی کرنے اور ملک سے غداری جیسے معاملات میں مقدمہ دائر کئے گئے جبکہ پورے ملک کے سیکولر ذہن رکھنے والے افراد اور علاقائی سیاسی جماعتوں نے بھی سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر قانون کی مخالفت کی تھی۔ اس تحریک میں مسلمانوں نے کھل کر حکومت ہند کے فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی حکومت ہند بجائے اس کا لے قانون کو واپس لینے پر نظرثانی کرنے کے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں پر بہت ظلم کیا اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔

دہلی میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات میں صرف مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے کاروبار (دکانوں) کو دن دہاڑے جلایا گیا اور کئی مساجد کے اندر داخل ہوکر بے حرمتی کی گئی جس میں کئی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔کئی زخمی ہوئے اور اپنے کاروبار اور جائیدادوں سے محروم ہوگئے۔لہٰذا ایسے حالات میں مسلمانوںکو نہایت چوکنا رہنا چاہئے اوراورمخاللفین کو جھوٹا پروپگنڈا کرنے کے مواقع بھی فراہم نہیں کرنا چاہئے ۔انھوں نے کہا کہ الحمد اللہ سارے ملک میںمسلمانوں نے کروان وائیریس کے لاک ڈائون کے باوجود نہایت صبر و سکون کے ساتھ روزے رکھے ، اپنے گھروں میں ہی نمازیںادا کیں ۔ اس طرح کرونا وائیریس کی روک تھام کے لئے مسلمانان نے بھی سارے ملک کے عوام کے ساتھ نہایت نظم و ضبط سے کام لیا اور تمام پابندیوں کی تعمیل کی ۔ ڈاکٹر اصغر چلبل نے کہا ہے کہ ماہرین کے مطابق کوروناوائرس وبا کو پھیلانے سے روکنے کیلئے اجتماعی عبادات نہیں کی جاسکتی ہیں۔

حکومت ہند اور حکومت کرناٹک کی جانب سے 31مئی تک لاک ڈائون میں توسیع کی گئی اور مکمل تمام مذہبی عبادت گاہوں کو بند رکھنے کا فیصلہ اور 144سیکشن جاری رہنے کی صورت میں اس سال عیدالفطر سادگی کے ساتھ منانے ، نئیکپڑے پہننے سے گریز کرنے کیوںکہ غریب لوگ اس مرتبہ نئے کپڑے نہیں خرید سکے۔علمائے کرام کی جانب سے بھی عید الفطر کی نماز گھروں میں ؤ ادا کرنے کی اپیل کے مدنظر پیپلز فورم نے بھیمتفقہ طورپر یہ طئے کیا ہے کہ عیدالفطر کی نماز گھروں میں پڑھتے ہوئے سادگی کے ساتھ عید منائی جائے۔۔انہوںنے مزید بتایا کہ پیپلز فورم کے ذمہ داران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ طئے کیا گیا کہ مندرجہ بالا وجوہات کو دیکھتے ہوئے عوام سے اپیل کی جائے کہ عید کی نماز گھروں میں ہی ادا کریں۔اس اجلاس میں ناصر حسین استاد،بابا نظرمحمد خان، وہاج بابا، الیاس سیٹھ باغبان، عبدالرحیم مرچی ، عارف علی منیار، ڈاکٹر عرفان وغیرہ شامل تھے۔

بعدازاں ڈاکٹر محمد اصغرچلبل کی رہائش گاہ پر مخصوص تجار ،عید گاہ کمیٹی ذمہ داروں اور علمائے کرام و دانشوران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فون کرکے تمام کی رائے طلب کی گئی کہ عیدالفطر کی نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں کیا اقدامات کیے جائیں اور پیپلز فورم کے چند ذمہ داروں کو ڈپٹی کمشنر گلبرگہ اور پولیس کمشنر سٹی و ایس پی گلبرگہ سے بات کرکے عیدگاہوں میں صرف انتظامی کمیٹیوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل کرنی چاہیئے۔ لہٰذا ڈاکٹر محمد اصغرچلبل ،ناصر حسین استاد اور وہاج بابا نے ڈپٹی کمشنر پولیس کشور بابو سے بات کی اور کشور بابو نے ایس پی اورڈپٹی کمشنر گلبرگہ سے فورن پر بات کرکے پیپلز فورم کے مطالبات رکھے۔ ڈپٹی کمشنر ، پویلس کمشنر اور ایس پی نے پیپلز فورم کے ذمہ داروں سے گذارش کی کہ وہ عوام سے اپیل کریں کہ عید کی نماز گھروں میں ادا کریں۔ معذرت خواہ ہیں اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

الحاج زین الدین شیرینی فروش، مولانا عبدالحکیم وقار اشرفی، مولانا قاسم علی شاہ حیدر ،مولانا اظہر الدین، محمد جعفر ایوب اینڈ سنس، جاوید خان ،عبدالواحد امر اینڈ سنس، عبدالمقیط مچھالے، حاجی محمد عثمان محمد جانی کے علاوہ کئی تجار اور علمائے کرام سے فون پر بات کی گئی پیپلز فورم کے ذمہ داران بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔آخر میں مولانا قاسم علی شاہ حیدر صاحب کیؤ دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close