ہندوستان

اب تک 800 ورکرز اسپیشل ٹرینیں چلائی گئی، 10 لاکھ تارکین وطن مزدوروں کو گھر پہنچایا گیا: ریلوے

نئی دہلی،14مئی (آئی این ایس انڈیا) ریلوے نے ایک مئی سے 800 ’ ورکرزاسپیشل‘ ٹرینیں چلائی ہیں اور لاک ڈاؤن کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں پھنسے تقریبا 10 لاکھ تارکین وطن کارکنان کو ان ٹرینوں سے ان منزل تک پہنچایا ہے۔حکام نے جمعرات کو یہ معلومات دی۔انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے سب سے زیادہ ٹرینیں اترپردیش گئیں، جس کے بعد بہار کا مقام آتا ہے۔

حکام نے کہاکہ 14 مارچ 2020 تک ملک کے مختلف ریاستوں سے’ ورکرز اسپیشل‘کل 800 ٹرینیں چلائی گئیں،10 لاکھ سے زائد مسافر اپنے اپنے گھر پہنچے۔ ریلوے نے کہاکہ مسافروں کو بھیجنے والی ریاست اور ان کے اصل مسکن والی ریاست کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد ہی یہ ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ یہ 800 ٹرینیں آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، ہماچل پردیش، جموں کشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، منی پور، میزورم، اڑیسہ، راجستھان، تمل ناڈو، تلنگانہ، تریپورہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ اورمغربی بنگال جیسی ریاستوں میں پہنچیں۔

ریلوے نے کہا ہے کہ ٹرین میں سوار ہونے سے پہلے مسافروں کی مناسب جانچ کی جا رہی ہے۔ساتھ ہی سفر کے دوران مسافروں کو مفت کھانا اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔پیر سے ہر ورکرز اسپیشل ٹرین میں قریب 1700 سفر کریں گے، جبکہ پہلے یہ تعداد 1200 تھی۔اس کا مقصد ہر ممکن حد تک زیادہ کارکنوں کو گھر پہنچانا ہے۔حکام نے بتایا کہ آغاز میں یہ ٹرینیں درمیان راستے میں کہیں نہیں رک سکی۔ریلوے نے پیر کو یہ اعلان کیا ہے کہ منزل ریاستوں میں زیادہ سے زیادہ تین سٹیشنوں پر یہ ٹرینیں روکیںگی۔اس سلسلے میں بہت سی ریاستی حکومتوں کی درخواست کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ریلوے کی طرف سے ان خصوصی خدمات پر آنے والی لاگت کا اعلان ابھی باقی ہے لیکن حکام نے اشارہ دیا کہ ریلوے ہر آپریشنل پر قریب 80 لاکھ روپے خرچ کر رہا ہے۔مرکز نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ٹرین خدمات پر آنے والا خرچ مرکز اور ریاستوں کے درمیان 85-15 ہے۔ورکرز اسپیشل ٹرین شروع ہونے کے بعد سے گجرات سے سب سے زیادہ ٹرینیں چلائی گئی، جس کے بعد کیرالہ کا مقام آتا ہے۔اس سفر کے لیے ریلوے کی طرف سے کرایہ وصول کئے جانے پر آغاز میں ریلوے کو اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ضمنی انتخابات سے پہلے بی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close