ہندوستان

مدھیہ پردیش میں کرونا بحران: سیاسی مفادکے لیے کوششوں میں تاخیر؟

بھوپال 18اپریل(آئی این ایس انڈیا) 20 مارچ تھا۔ اس دن مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ کی سربراہی والی کانگریس حکومت اقتدار سے باہر ہوگئی تھی۔ اسی دن ریاست میں کورونا وائرس کے انفیکشن کا پہلا کیس جبل پور سے بھی سامنے آیا تھا۔ اس وقت ریاست کے دارالحکومت بھوپال اور تجارتی دارالحکومت اندور میں ایک بھی متاثرمریض نہیں تھا۔ تقریباََ چار ہفتوں کے بعد ، ان دو شہروں میں متاثرہ افراد کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی ہے اور متاثرین کی تعداد کی بنیاد پر مدھیہ پردیش ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ کانگریس گھیررہی ہے سرکارگرانے اورسرکاربنانے کے لیے لاک ڈائون میںتاخیرکی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کو حلف اٹھائے 25 دن ہوئے ہیں ، لیکن ریاست میں کابینہ نہیں ہے حتی کہ وزیر داخلہ اوروزیرصحت بھی نہیں ہیں۔شیوراج اب بھی اپنی کابینہ کی تشکیل کے بارے میں کھلے عام کچھ نہیں کہہ رہے ہیں ،

ابھی ان کی توجہ ریاست میں وائرس کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کوکنٹرول کرنے پر ہے۔ 13 اپریل کو ، انھوں نے کورونا کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی۔ پارٹی رہنماؤں کو اس میں جگہ دی گئی ، لیکن اس کے تیسرے دن ہی ریاست میں ایک ہی دن میں کورونا سے متاثر ہونے کے 391 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کو اعتماد دلانے کی کوشش کی کہ ریاست میں متاثرہ افراد کی تعدادمیں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ روزانہ زیادہ سے زیادہ افراد کی جانچ کی جارہی ہے۔ تاہم ، ریاست کی لاکھوں آبادی گھرکے اندر ہی قید رہنے پر مجبور ہے اور اب یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا ریاست میں سیاسی ہلچل کے سبب کوروناکے خلاف لڑائی ختم کردی گئی ہے؟

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close