ہندوستان

جمعیۃ علماء کانپور کی جانب سے غریبوں اور ضرورتمندوں میں راشن کی تقسیم ، پیدل سفر کرن والوں کے لئے کھانے کی پیکٹ کا انتظام !

کانپور ۔ 30؍مارچ 2020 (پریس ریلیز) قاضی شہر کانپور مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش کی نگرانی وسرپرستی میں جمعیۃ علماء کے اراکین و دیگر علماء کرام و نوجوان کانپورمیں پانچ مقامات پر روزکمانے والے مزدوروں ، محنت کشوں ،غریبوں و پیدل اور بسوں ،ٹرکوں سے سفر کرنے والے مسافروں میں آٹا ،دال، چاول، شکر ، نمک ، تیل ، مسالحہ ، چائے کی پتی اور آلو پیاز کی کٹ تقسیم کی جا رہی ہیں ، نیز مسافروں کو تہری، کھچڑی ،پوری سبزی، بسکٹ و پانی کے پاؤچ بانٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر اور کچھ اطراف شہر کے لوگوں کو ہفتہ دس دن چل سکنے والا غلہ اور ضروریات پر مشتمل کٹ اور مسافروں میں بسکٹ ، پانی ، تہری ، کھچڑی،پوری سبزی تقسیم ہوا تو بعض مسافر مرد وخواتین اپنے درد کو بیان کرتے ہوئے روپڑے اور انہوں نے کہا کہ ان کو کئی گھنٹوں سے ایک بوند پانی تک نہیں ملا ہے۔ شہر قاضی مولانا اسامہ قاسمی کی اطلاع کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد غلہ و ضروریات کٹ 900پیکٹ کھانا تہری، پوری سبزی ، 6ہزار کے قریب بسکٹ و پانی کے پاؤچ تقسیم کئے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی کئی روز چلے گا۔
مولانا انصار احمد جامعی ، محمد نعیم صدیقی ،عار ف خاں، محمد اسلام الدین باباپوروہ میں ، قاری عبد ا لمعید چودھری، محمد شفیع اور ان کے رفقاء منڈی و رامادیوی چوراہے میں، مولانا امیر حمزہ ، عبد الرحمن ، الماس اور ان کے رفقاء چمن گنج میں ، نبیل، حافظ شارق جاجمئو و طلاق محل میں ، مولانا فریدالدین ، محفوط، قاری محمد حذیفہ اور قاری بدر الزماں جاجمئو، گنگا پار ،پٹکاپور اورمیر پور میں لوگوں تک مدد پہنچانے میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔رامادیو ی میں600پیکٹ کھانا تقسیم کیا جا چکا ہے۔ بابو پوروہ میں12کنٹل غلے کی ہو م ڈلیوری اور450پیکٹ کھانا تقسیم کیا جا چکا ہے۔چمن گنج میں سوا لاکھ روپے کے قریب غلہ تقسیم ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر محلوں میں بھی سیکڑوں پیکٹ کھانا اور کئی کنٹل غلہ تقسیم ہو چکا ہے۔ مولانا اسامہ قاسمی نے کہا کہ لوگوں کی مدد کے دوران سوشل ڈسٹنس کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے اور والنٹیئرس سے صفائی اور سینیٹائزیشن پر خصوصی توجہ دینے کیلئے کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلمان اللہ کے اُس نبی کو ماننے والے ہیں جو پوری دنیا اور تمام انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے ہیں ،اس لئے مصیبت کی گھڑی میں انسانیت کی خدمت کی پہلی ذمہ داری ہماری ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کیلئے آگے آئیں ، جمعیۃ علماء کے اراکین سے رابطہ کریں ، اپنے اپنے گھروں میں رہ کر پڑوسیوں کا خیال رکھیں کہ کوئی بھی انسان غریبی کی وجہ سے بھوکا نہ سونے پائے۔ اس وقت یہی انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ مولانا نے پورے صوبہ اتر پردیش کے صاحبان خیر خصوصاًجمعیۃ علماء کے شہری ،ضلعی وصوبائی اراکین سے راہگیروں، مسافروں اور محنت کشوں کی خبر گیری کرنے کیلئے میدان عمل میں آکر منظم کوشش کرتے ہوئے تعاون و کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا فائدہ دنیا میں برکتوں اورزندگیوں میں سکون اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں و بہترین اجر کی شکل میں ملے گا۔ انشاء اللہ

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close