ہندوستان

این پی آر کا کُلی بائیکاٹ کیوں ضروری ہے؟

حکومت کی چالبازیوں کو سمجھنا اور اس کا توڑ نکالنا ضروری

مرکزی حکومت نے ملک کی تمام ریاستوں کو احکامات جاری کیے ہیں کہ جلد از جلد این پی آر پر عمل آوری کرے این پی آر مطلب مردم شماری جو ہر دس سال بعد ملک میں ہوتی رہی ہے اور اس پر بہت جلد عمل بھی ہونے والا ہے مہاراشٹر حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایک مئی سے این پی آر پر عمل ہوگا -این پی آر کو لے کر ملک کی عوام میں شک و شبہات ہے وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ این پی آر ہی این آر سی کی پہلی سیڑھی ہے اس سے قبل سابق وزیر داخلہ کرن رجیجو نے پارلیمنٹ میں 2014 میں کہا تھا کہ این پی آر کا ڈیٹا این آر سی کے لیے استعمال ہوگا اسکے علاوہ وزیر داخلہ امیت شاہ بھی کرونالوجی سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں- آپ کرونولوجی سمجھیے پہلے سی اے اے آئیگا پھر این آر سی ہوگا پھر این پی آر ہوگا
لیکن معاملہ ہوا ایسا کہ این آر سی اور سی اے اے کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا دہلی کے شاہین باغ سے نکلی چنگاری نے ملک بھر میں 1500 سے زائد شاہین باغ آباد کر لیے ہے ہر شہر، ہر قصبے میں شاہین باغ آباد ہے اور احتجاج جاری ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کل تک وزیر داخلہ کہنا تھا کہ ملک میں این آر سی ہو کر رہے گا حکومت ایک انچ پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے لیکن آج کہہ رہے ھیکہ ہم شاہین باغ کے مظاہرین سے بات کرنے کو تیار ہے اسے ہی کرونولوجی کہتے ہیں –
پورا ملک متنازعہ قانون کی مخالفت میں سڑکوں پر ہیں اس لیے حکومت نے چال چلی کہ اگر این آر سی کی مخالفت ہو رہی ہے تو ہم پہلے این پی آر پر کام کرتے مردم شماری ملک میں پہلی دفعہ نہیں ہو رہی ہے ہر دس سال بعد مردم شماری ہوتی ہے جس کا کام آسان تھا اور مردم شماری میں عوام کو کسی طرح کے کوئی کاغذات دکھانے نہیں پڑھتے تھے لیکن اب اسے این پی آر کا نام دیدیا گیا – لیکن اس مرتبہ مردم شماری کو این پی آر کا نام دیکر الجھا دیا گیا ہے 2011 میں 22 سوالات تھے جسکے جوابات دینا گھر کے ہر فرد کے لیے آسان تھا اور اب این پی آر میں 31 سوالات شامل کیے گئے ہیں جس کے جواب دینا ہر شہری کے لئے ممکن نہیں دوسری اہم بات اب تک مردم شماری کے لیے کسی بھی طرح کے کاغذات نہیں مانگے جاتے تھے مگر اس بار کاغذات بھی دینا ہوگا اس لئے این پی آر کو این آر سی کی پہلی سیڑھی کہا جا رہا ہیں
ملک میں اب تک 15 بار مردم شماری ہو چکی ہے اور اب 2021 کے ملاکر یہ سولہویں مردم شماری ہوگی مردم شماری ایک طریقہ ہے جس میں یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ملک کی آبادی کتنی ہے آبادی میں کتنے مرد ہے کتنی خواتین ہے اور مذاہب کے حساب سے کتنے لوگ ہیں مسلم، دلت، ہندو، سکھ، جین، عیسائی وغیرہ
مردم شماری میں کبھی شہریت ثابت کرنی نہیں ہوتی شہریت ثابت کرنے کے بات این آر سی میں ہے اسے The Citizenship Act 1955سے لیا گیا ہے
2003 میں اٹل بہاری واجپائی کی سرکار نے ایک رجسٹر بنانے کے بات کی تھیں جس میں نام، پتہ، مذہب وغیرہ ہوگا جسے این پی آر کا نام دیا گیا ہے اس میں صاف طور پر کہا گیا عوام کے این پی آر کے تعلق سے معلومات مہیا کرنی ہوگی اس کے بعد سرکاری اہلکار اس معلومات کی تصدیق کریں گا اور جب این آر سی ہوگا تو اس سرکاری اہلکار کو اختیار ہوگا کہ جسے چاہے شہری رکھے جسے چاہے مشکوک قرار دیدے – جو کہتے ہیںکہ این پی آر اور این آر سی بالکل الگ ہے دونوں کا کوئی واسطہ نہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اگر قانونی نظریے سے دیکھا جائے تو این پی آر کی معلومات این آر سی کے علاوہ کہی بھی استعمال نہیں کی جاسکتی جو معلومات این پی آر میں حاصل کی جا رہی ہے اس کی بنیاد پر این آر سی ہو سکتاہے-
این پی آر کی معلومات این آر سی میں کس طرح استعمال ہوگی یہ 2003 کے قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری اہلکار کو یہ اختیارات دیئے گئے ھیکہ وہ کسی بھی شہر کو مشکوک قرار دے دیں اس کے لیے سرکاری اہلکار کو کوئی پیمانہ نہیں دیا یہ بہت بڑا اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی مشکوک قرار دیدے جسے مشکوک قراردیدیا گیا وہ شہری نہیں ہے پھر اسے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس ملک کا شہری ہے جب این پی آر کا رجسٹر بن جائیگا تو اس علاقے کے باشندے کو اختیارات دیئے گئے ہیں کہ کسی بھی شہری پر اعتراض داخل کرسکتا ہیں کہ فلاں فلاں شخص یہاں کا شہری نہیں ہے جسے سرکاری اہلکار ایک بار پھر جانچ کریں گے کہ یہ حقیقت میں یہاں کا شہری ہے یا نہیں!
اگر آپ کا کوئی دشمن ہے تو حکومت نے اسے اختیارات دیے ہیں کہ وہ آپ کی شہریت پر سوال کھڑا کرسکتا ہے بعد میں آپ کو ثابت کرتے رہنا پڑے گا کہ آپ یہی کے ہے آپ کے والد یہی پیدا ہوئے اور آپ کے دادا یہی کے تھے وغیرہ وغیرہ اس اعتراض کی وجہ سے آسام میں کافی دقتیں پیش آئی کیونکہ آسام میں این آر سی ہوگیا ہے اس لیے ہمیں وہاں کی مثال ملتی ہے کہ وہاں کس طرح کے اعتراض داخل کئے گئے یعنی کے ہوا ایسا جس کا جیسا من چاہا ویسا اعتراض داخل کر دیا گیا – بہرکیف ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ این پی آر کا مردم شماری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مردم شماری الگ چیز ہے اور این پی آر الگ اس لیے اب جب کہ مردم شماری کو این پی آر کا نام دیکر شروع کیا جا رہا ہے تو ہمیں اس طرف توجہ دینا ضروری ہے اور این پی آر کے تعلق سے عوامی بیداری ضروری ہےکہ ہم اس کا مکمل بائیکاٹ کرے اگر آپ کے محلے گلی میں این پی آر کے لیے سرکاری اہلکار آتے ہیں تو انہیں کہیں کہ 2011 میں مردم شماری میں جو سوالات تھے اگر اس طرح مردم شماری ہوگی تو ہم حصہ لیں گے بغیر کاغذات کے نا دیکھائے گے اور نہ دیں گے رہی این پی آر کی بات تو ہم اس کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں کوئی سرکاری اہلکار یا کوئی شہری ہماری شہریت پر سوال اٹھائے ہمیں منظور نہیں-
سوال یہ بھی ہے کہ مردم شماری ہر دس سال بعد ھوتی ھے تو 2011 سے دس سال 2021 میں ہونے والی ہے پھر 2020 میں اس پر عمل کیوں کیا جارہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ این آر سی سے آسام میں عوام کو جو تکلیف ہوئی اس کا خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا اور حکومت بار بار کہہ رہی ہیں کہ ہم نے این آر سی نافذ کرنے کی کوئی بات نہیں کی جبکہ امیت شاہ کا کرونولوجی والا ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے جس میں کہا گیا ہےکہ ملک میں این آر سی کسی بھی قیمت پر ہوکر رہے گا تو بات صاف ہے کہ عوامی احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا جارہا ہے این پی آر کے تحت چور راستہ بنایا گیا کہ جو معلومات این پی آر میں لی جائے گی اسے این آر سی کیلئے استعمال کیا جائے گا ملک کے زیادہ تر دانشور حضرات نے اس معاملے میں واضح کہا کہ این پی آر ہی این آر سی ہے اس لیے عوام کو چاہیے کہ اس کی مخالفت کرے نہ صرف مخالفت کرے بلکہ اس کا مکمل بائیکاٹ کرے اور اپنے محلے گلی میں رہنمائی کرے ہمیں این پی آر میں حصہ نہیں لینا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے کاغذات دینا ہے اگر این پی آر میں کاغذات نہیں بتائے گئے یا معلومات نہیں دی گئی تو اس کا جرمانہ ہوتا ہے ہمیں جرمانہ منظور ہے لیکن کوئی ہماری شہریت پر سوال اٹھائے یہ منظور نہیں!
شہاب مرزا ، 9595024421

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close