ہندوستان

مرکزی حکومت نے بجٹ میں بنکروں کو کچھ بھی نہیں دیا! جاوید اختر بھارتی

محمدآباد گوہنہ (مئو) یوں تو موجودہ وقت میں سبھی لوگ پریشان نظر آتے ہیں ہر ایک اپنا فسانہ غم بیان کرتا نظر آتا ہے لیکن روزی روٹی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بنکر طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہے بجلی سپلائی کی بحالی کی مار، وزارت توانائی کے ذریعے نئے فرمان کی مار، پاس بک سہولت ردکئے جانے کی مار، مرکزی حکومت کے عام بجٹ میں بنکروں کو نظر انداز کئے جانے کی مار غرضیکہ بنکروں کے سامنے سنگین بحران پیدا ہوگیا تمام پاورلوم بند ہوتے جا رہے ہیں بیکاری دامن پسارتے جارہی ہے مزدور بنکروں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہے مرکزی حکومت نے بنکروں کو بجٹ میں کچھ بھی نہیں دیا جس کی وجہ سے دوسروں کا تن ڈھکنے والا بنکر آج اس تشویش میں مبتلا ہے کہ اب خود کا تن کیسے ڈھکا جائے گا دوسری کسی پارٹی نے بھی پارلیمنٹ میں بنکروں کی فلاح و بہبود سے متعلق آواز نہ اٹھاکر بنکروں کے ساتھ لاوارث جیسا سلوک کیا اب بنکر مزدور طبقہ کس سے اپنی فریاد کرے کس کو اپنی روداد غم سنائے کس سے امید لگائے باہر میدان میں ساری پارٹیاں کہتی ہیں کہ کسان اور بنکر ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، کسان اور بنکر ہندوستان کی دو آنکھیں ہیں لیکن ایوان میں جب آواز بلند کرنے کا موقع آتا ہے تو صرف کسانوں کا ذکر کیا جاتا ہے یہ بنکروں کے ساتھ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے اس سلسلے میں اتر پردیش بنکر یونین کے سابق سکریٹری جاوید اختر بھارتی نے کہا کہ آج بنکروں کے سامنے انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہوچکی ہے بنکروں کے بچوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے بنکر طبقہ ضروریات زندگی کی تمام سہولیات سے محروم ہوتا جا رہا ہے علم کی اہمیت ہمیشہ سے بلند رہی ہے اور کامیاب وہی ہے جو تعلیم یافتہ ہے لیکن آج تعلیم بھی بہت مہنگی ہوچکی ہے آج وہی شخص اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتا ہے جو مالی اعتبار سے خوشحال ہے تو مزدور بنکر جو رات رات بھر جاگ کر اپنی اور بچوں کی ضروریات کو پورا کرتاتھا تو وہ اپنی زندگی کا گذر بسر کیسے کرے گا اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیسے کرے گا حکومت نے بنکروں کے مسائل حل کرنے کے بجائے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ایم پی، ایم ایل اے بنکروں سے جھوٹے وعدے کرکے ووٹ حاصل کرنا اور ان کے دکھ سکھ سے منہ موڑ لینا اپنی چالاکی سمجھتے ہیں جاوید اختر بھارتی نے کہا کہ حال ہی میں اتر پردیش کی حکومت نے بجلی کی بلوں سے متعلق جو فیصلہ لیا ہے اس سے تو بنکر طبقہ قرضدار ہو جائے گا اس لئے کہ اتنی مہنگی بجلی کا بل جمع کرنا تو مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے پھر وہی ہوگا کہ آرسی جاری ہوگی روز دروازے پر امین دستک دے گا اور غریب مزدور بنکر سماج میں بے عزت ہوگا گویا ان ساری بے عزتی سے بچنے کیلئے پھر پہلے کی طرح غریب محنت کش مزدور بنکروں کے سامنے بچہ بیچنے، خون بیچنے اور خودکشی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا اور ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری مرکزی و صوبائی حکومت پر عائد ہوگی اور ایم پی، ایم ایل اے بھی ذمہ دار ہونگے ورنہ بنکروں کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت ٹھوس اقدامات کرے بنکروں کے حق میں بہتر پالیسی تیار کرے اور ساتھ ہی ساتھ اس پالیسی کا فائدہ دلالوں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کو نہ مل کر سیدھے غریب محنت کش مزدور بنکروں کو ملے اس کا بھی حکومت انتظام کرے اور سب سے پہلے پاور لوم بنکروں کے لئے پاس بک سہولت کو بحال کرے تاکہ بنکروں کو فوری طور پر کچھ راحت مل سکے –
– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمد آباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close