ہندوستان

بی جے پی اور سنگھ پریوار ہندوستانیوں کو پاکستانی کہنا بند کریں: ڈاکٹر جے اسلم باشاہ

وانمباڑی۔یکم؍فروری:( پریس ریلیز)۔ مرکزی بی جے پی حکومت کے طرف سے لائے گئے سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر جیسے کالے قوانین کے خلاف ریاست تمل ناڈو کے شہر وانمباڑی میں گزشتہ 5دنوں سے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی جانب سے ‘وانمباڑی شاہین باغ ‘ کے نام سے منسوب گرائونڈ میں احتجاجی مظاہرہ ہورہا ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے شرکت کرکے جمع مظاہرین سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کی طرف سے بار بار ہندوستانیوں کو پاکستانی قرار دیئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے سوا دنیا میں کوئی ایسی پارٹی نہیں ہے جو اپنے ملک کے شہریوں کو دوسرے ملک سے منسوب کرتی ہے ۔ ڈاکٹر اسلم باشاہ نے کہا کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کو جان لینا چاہئے کہ ہندوستانی مسلمانوں اور پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کو ہوسکتا ہے پاکستان سے محبت ہوسکتی ہے تبھی نریندر مودی بغیر بلائے پاکستان چلے جاتے ہیں اور دعوت میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں اور حکومت کے عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے سیاسی پارٹیوں اور احتجاج کرنے والے سیاسی رہنمائوں اور مظاہرین کو بی جے پی اور سنگھ پریوار بڑی آسانی سے پاکستانی قرار دیتی ہے ۔ ایسے لیڈروں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئے اور آئندہ پاکستان کا نام لینا بند کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹر اسلم باشاہ نے مزید کہا کہ آج ہمارے ملک کی معاشی حالت روز بروز بگڑتی جارہی ہے ، نوجوان روزگار سے محروم ہورہے ہیں لیکن بی جے پی حکومت ملک کو ترقی کی راہ کی طرف لیجانے کے بجائے ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کررہی ہے اور نفرت کی سیاست کررہی ہے ۔ اس ملک میں پیدا ہونے والے اور اس ملک سے صدیوں سے رہتے آرہے ہیں مسلمانوں ، دلتوں ، قبائلیوں کو سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر جیسے کالے قوانین لاکر ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ اس ملک کے130کروڑ شہریوںمیں تقریبا 30کروڑ روٹی ، کپڑا اور مکان اور بنیادی سہولیات سے محروم کچی آبادیوں میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے ملک تنوع میں اتحاد کی بنیاد پر قائم ہے اس کو تباہ برباد کرنے کیلئے بی جے پی کالے قوانین اور عوام مخالف پالیسیاں لارہی ہے ۔ ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آج کانگریس سمیت ملک کی تمام سیکولر اپوزیشن پارٹیاں مخالفت کررہی ہیں۔ لاکھوں کے تعداد میں عوام سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور دہلی شاہین باغ میں خواتین اس قانون کے خلاف ڈٹی ہوئی ہی اور مستقبل میں یہ مخالفت مزید تیز اور طاقتور ہوگی ۔جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب بی جے پی حکومت ان کالے قوانین کو واپس لینے پر مجبور ہوگی۔ ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے کہا کہ بابری مسجد معاملے میں فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں آیا تھا لیکن مسلمانوں نے ملک کی سلامتی اور امن و امان کو مدنظر رکھتے ہوئے خاموشی اور صبر وضبط کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن بی جے پی حکومت سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر جیسے کالے قوانین کے ذریعے آج ملک کے آئین پر حملہ کیا ہے اس سے مسلمان کھبی برداشت نہیں کریں گے کیونکہ اس ملک کی آزادی میں مسلمانوں نے اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ہم اس ملک کو فسطائی طاقتوں کے ذریعے برباد ہوتا نہیں دیکھیں گے اسی لئے آج ملک کے سارے مسلمان سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اختتام میں کہا کہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر صرف مسلمانوں کے خلاف لایا گیا قانون نہیں بلکہ ہر سیکو لر ہندوستانی کے خلاف لایا گیا قانون ہے ۔ ان قوانین کے خلاف سب ملکر مخالفت کررہے ہیں اور جب تک یہ کالے قوانین واپس نہیں لئے جاتے تب تک تمام سیکولر ہندوستانیوں کو ملکراپنی مخالفت کو جاری رکھنا چاہئے اور بی جے پی حکومت کی آئین مخالف اور ملک مخالف پالیسیوں کو شرمناک شکست دینا چاہئے ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close