ہندوستان

کیرالہ میں حزب اختلاف کے رہنما نے گورنر عارف محمد خان کو بتایا مودی-امت شاہ کاایجنٹ

تروننت پورم۔ ۲۷؍جنوری (ذرائع) سی اے اے کے خلاف اسمبلی میں تجویز لانے والی کیرل حکومت پہلی حکومت تھی۔اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ جانے والی پہلی حکومت بھی کیرالہ حکومت ہی تھی۔ان دونوں مسائل پر حکومت کا گورنر عارف محمد خان سے ٹکرائوسامنے آیا۔گورنر نے اسمبلی میں تجویز لانے کے حکومت کے اقدام کو غیر آئینی بتایا۔ریاستی حکومت کے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ جانے پر بھی گورنر نے ناراضگی ظاہر کی۔پھر انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے عدالت میں عرضی داخل کرنے سے پہلے انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی۔انہیں اس کی اطلاع دی جانی چاہئے تھی۔حکومت سے تو گورنر کا ٹکراؤ جاری ہی ہے لیکن اب وہاں اہم اپوزیشن پارٹی نے بھی گورنر کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔اپوزیشن لیڈر رمیش چنّی تھلا نے عارف محمد خان کو ایجنٹ بتایا ہے۔رمیش چنّی تھلا نے کہا۔وزیر اعلی پنارئی وجین کو سمجھنا چاہئے کہ گورنر عارف محمد خان پی ایم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔وہ اسمبلی کے اعزاز کے برعکس کام کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ گورنر عارف محمد خان نے شہریت قانون کے خلاف ان کو مطلع کئے بغیر سپریم کورٹ جانے پر سی پی ایم زیرقیادت لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ حکومت سے رپورٹ طلب کی۔شاہی محل کے دفتر نے ریاست کے چیف سکریٹری سے یہ رپورٹ طلب کی۔ شاہی محل کے ایک اعلی ذرائع نے بتایاکہ گورنر کے دفتر نے سی اے اے کے خلاف عدالت کا رخ کرنے کے حکومت کے اقدامات کے بارے میں ان کو مطلع نہ کرنے کو لے کر چیف سیکرٹری سے رپورٹ مانگی ہے۔ریاستوں کی طرف سی اے اے کے خلاف تجویز پاس کرنے کو لے کر کانگریس کے رہنما اور سینئر وکیل کپل سبل نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ سے منظور ہو چکے قانون کو نافذکرنے سے کوئی ریاست کسی بھی طرح سے انکار نہیں کر سکتی ہے۔ ایسا کرنا غیر آئینی ہوگا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close