ہندوستان

حضرت مولانا صغیر احمد رحمانی صاحب کا انتقال علمی دنیا کے لئے عظیم صدمہ، نیاز احمد قاسمی

سوپول (روح اللہ) جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاذ حدیث آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ کے رکن شوریٰ اور کئی اداروں کے سرپرست مشہور ونامور عالم دین حضرت مولاناصغیراحمد صاحب رحمانی کا آج مورخہ 26 جنوری 2020 کو اپنے آبائی وطن محرم پور بگھیلی میں انتقال ہوگیا ہے ’’ اناللہ واناالیہ راجعون ‘‘ حضرت مولانا ہندوستان کے ان عظیم اساتذہ کرام میں شمار ہوتے ہیں جن کے علم و فن اور صلاحیت کا صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ اکابرین علماء بھی قدر کیا کرتے تھے۔ خصوصا حضرت امیر شریعت رابع رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی اور سرپرستی میں انہوں نے اپنا وقت گزارااور انکے فیض سے فیضیاب ہوتے رہے حضرت کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد پوری دنیامیں موجود ہیں اور دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں
حضرت نے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں اپنی خدمت انجام دی اورجامعہ رحمانی کے علمی کارناموں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا نیز حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی نوراللہ مرقدہٗ کی ذہنی اور دماغی فکر یوں کہ یہ کے فکر منت کو زمین پر اتارنے میں حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رحمانی نوراللہ مرقدہٗ کا نام سرفہرست ہوگا خاص کر مسلم پرسنل لا بورڈکی تحریک اور تنظیم کو زمین پر اتارنے میں حضرت کا نام ہمیشہ شمار کیا جائے گا فلاح ملت ڈپرکھا کے جنرل سکریٹری مولانا نیاز احمد قاسمی صاحب نے حضرت مولانا کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے جامعہ اسلامیہ سراج العلوم ڈپرکھا اور مدرسہ رحیمیہ گاڑھا مدھے پورہ میں حضرت کےلئے دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close