ہندوستان

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

شیموگہ:26/جنوری(ذرائع ۔ ہندوستان اردو ٹائمز) جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ہوگئی اورپارک کچھ ہی دیر میں شاہین باغ میں تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق این آر سی اور سی اے اے کے خلاف چلنے والی مہم شیموگہ میں بھی پروان چڑھنے لگی ہے۔ 25جنوری کی شام کو جب اسٹوڈینٹ یونائٹیڈ مومنٹ سمیت مختلف علاقوں کی خواتین آر ایم ایل نگر میں موجود بپلک پارک میں جمع ہونا شروع کیا تو پولیس کی بڑی تعداد موقع پرپہنچ گئی اور جمع ہونے والی خواتین سے سوالات کرنا شروع کردیا، لیکن خواتین نے ڈٹ کر پولیس کے ہر سوال کا جواب دیا اور کہا کہ ہم لوگ یہا ں این آر سی کے احتجاج کیلئے نہیں آئے ہیں بلکہ یوم جمہوریہ کی تقریب کو شان سے منانے کیلئے جمع ہوئے ہیں ۔ اس دوران ایک پولیس اہلکارنے جب ایک خاتون سے پوچھا کہ آپ کو اندرآنے کی اجازت کس نے دی،تو اُس خاتون نے برجستہ جواب دیاکہ کیا ہمیں اس پارک میں آنے کیلئے کسی سے اجازت لینی ہوگی اور یہ اجازت نامہ پوچھنے کیلئے آپ کو کس نے اختیاردیا ہے ؟ اس پر پولیس افسر لاجواب ہوکر وہاں سے نکل پڑا، اس دوران پولیس کی جانب سے پارک کے عوامی استعمال کیلئے لگائے گئے بجلی بلب بجھا دئیے گئے جس پر خواتین نے شدید برہمی کااظہارکیا تو فوری طور پر بجلی بحال کر دی گئی ۔دیکھتے ہی دیکھتے چند خواتین کا جمائوڈا سینکڑوں کی تعداد میں بدلنے لگا اور پارک میں حب الوطنی کے نغمے گنگنانے لگے۔
رات دیر گئے ملنے والی اطلاع کے مطابق خواتین نے پارک سے نہ ہٹنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ وہاں پر موجود درجنوں لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ یہ شاہین باغ کی بنیاد ہے اور اس باغ کومزید تقویت دی جائیگی۔خواتین اور مقامی نوجوانوں کی جانب سے اعلا ن کیا گیا کہ 26 جنوری کی صبح 9:30 بجے اس باغ میں پرچم لہرایا جائیگا اور یہاں کب تک رہنا ہے فیصلہ لیا جائیگا
واضح ہوکہ خواتین کے اس جوڑکو توڑنے کیلئے پولیس کے علاوہ کچھ مقامی لوگ بھی جدوجہد کرتے نظر آئے تھے اور ان خواتین کی ہمت کو پست کرنے کی بھی کوشش ہوئی، اس موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک خاتون نے بتایا کہ شائد یہ لوگ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ یہ اُمت محمدیہ ہے اور اس اُمت میں ام المومینین بی بی عائشہ سے لیکر مجاہد آزادی بی اماں تک اور عائشہ رینہ اورلدیدہ فرزانہ جیسی بیٹیاں بھی موجود ہیں۔
اخبارنویسوں سے گفتگو کرتی ہوئی خواتین نے عوام الناس سے درخواست کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس شاہین باغ کے جلسے میں شرکت کریں۔ موقع پر موجود خواتین نے اس بات کی بھی اپیل کی کہ اس جوڑ کو خواتین نے ہی ترتیب دیا ہے اور وہ اس کام کو بہتر طریقے سے انجام دینے کیلئے پوری کوشش میں لگی ہوئی ہیں، انہوں نے نوجوانوں سے درخواست کی کہ وہ اس بات کاخیال رکھیں کہ وہ ملت کو جوڑنے کیلئے آگے آئیں اور خواتین کا ساتھ دیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close