ہندوستان

کاغذات دکھانے سے صاف انکار کردیں: یشونت سنہا ! پورا ملک سی اے اے کی مخالفت کرے، شانتی یاترا کوٹہ پہنچی

کوٹہ۔ ۲۳؍جنوری: ملک میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کا قافلہ راجستھان کے کوٹہ شہر میں پہنچا۔ یشونت سنہا نے یہاں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت شاہ کہتے ہیں کہ این آر سی لاگو کر کے رہیں گے اور پی ایم مودی اس سے انکار کرتے ہیں۔ ہم لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں کہ این آر سی کے تحت دستاویزات مانگے جانے پر صاف منع کر دیں۔ پورا ملک اس کے خلاف کھڑا ہوگا تو حکومت کو غور کرنا ہوگا اور پھر سی اے اے جیسا قانون کبھی وجود میں نہیں آ سکے گا۔واضح رہے کہ یشونت سنہا کی ’گاندھی شانتی یاترا ‘ ٩ جنوری کو ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا سے شروع ہوئی تھی اور اس میں 60 لوگ شامل ہیں۔ دراصل، 9 جنوری 1915 کو گاندھی جی افریقہ سے ہندوستان واپس آئے تھے ، اسی کی یاد میں دن تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔کوٹہ شہر میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف کشور پورہ عید گاہ پر گزشتہ 10 دنوں سے خواتین دن رات دھرنا دے رہی ہیں جبکہ یہاں کے وگیان نگر میں بھی مظاہرے کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں مقامات پر یشونت سنہا کی گاندھی شانتی یاترا کی ٹیم بدھ کے روز پہنچی اور خواتین کو گاغذ نہیں دکھانے کے لئے بیدار کیا۔ حالانکہ یشونت سنہا کو بھی یہاں پہنچنا تھا لیکن وہ طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے نہیں جا سکے۔قبل ازیں، یشونت سنہا نےکوٹہ پہونچنے پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون غیر آئینی ہے، لہذا اس کی مخالفت میں ہزاروں کلومیٹر کی گاندھی شانتی یاترا نکالی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریت پر قانون بنانے کا حق پارلیمنٹ کو ہے اس لیے ہم اسے چیلنج نہیں کر رہے لیکن پہلی بار مودی سرکار نے ایسا قانون بنایا جو مذہبی تفریق پر مبنی ہے،اس لیے یہ قانون راست طور پر آئین کے خلاف ہے۔انہوں نے سیدھے طور پر مودی سرکار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بتائیں کہ جو لوگ 20-25 برس قبل مذہبی زیادتی کے شکار ہوئے تھے ، وہ اس کے ثبوت کیسے دے پائیں گے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔یشونت سنہا نے کہا ، ملک کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کے جو خواب دکھائے گئے تھے وہ چکناچور ہو چکے ہیں۔ سرکار نے ترقی کے مدعوں سے عوام کا دھیان ہٹا کر سی اے اے اور این آر سی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا ہے۔سنہا نے کہا کہ اسی بی جے پی سرکار نے پچھلے 6 برسوں میں پاکستان بنگلہ دیش افغانستان سے بھارت میں آے چار ہزار سے زائد لوگوں کو شہریت دی ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close