ہندوستان

بھارت بند: ’اگر ہم خاموش رہے تو مذہبی رسومات کا ادا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا‘

آج پورے ہندوستان میں بند کا اثر دیکھنے کو ملا۔ میوات خطہ میں بھی پرامن انداز میں ’بھارت بند‘ کا اہتمام کیا گیا۔ اس دوران نوجوان و خواتین پر مشتمل کچھ جلوس نکلے اور پرامن انداز میں مظاہرے کیے گئے۔
میوات ۔ 08 جنوری 2019 (صابر قاسمی میواتی)
آج بھارت بند کا اثر ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں بہت زیادہ تو کچھ ریاستوں میں ملا جلا دیکھنے کو ملا۔ خطہ میوات میں اس بند کو میوات کے نوجوان، کالج و یونیورسٹی طلبا اور بیدار خواتین نے کامیاب بنایا۔ حالانکہ کچھ علاقے میں دفعہ 144 نافذ تھا اس کے باوجود میوات کے بڑے گاؤں اٹاؤڑ کے دادا باہڑ چوک پر نوجوان طبقہ بڑی تعداد میں بند کی حمایت میں کھڑا نظر آیا۔ کالج و یونیورسٹی کے طلبا پرجوش لیکن پرامن احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آئے۔ مظاہرہ کا آغاز ہوڈل نوح پر واقع نہر سے شروع ہوا جو دادا باہڑ چوک ہوتے ہوئے نوح روڈ واقع پالیٹکنک کالج تک پہنچا۔ جیسے جیسے یہ جلوس آگے بڑھا، لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ بھارت بند کا اہتمام مودی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف کیا گیا تھا اور اس دوران میوات میں احتجاجی مظاہرہ کو ناکام کرنے کی کچھ کوششیں بھی ہوئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انتظامیہ ضلع پلول نے دیہی علاقے کے کچھ سرگرم لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن اس کا اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ خطہ میوات کے لوگ پورے جوش کے ساتھ بند کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہوئے نظر آئے۔ درجنوں پولس گاڑیوں کی موجودگی پرامن طریقے سے لوگوں نے مودی حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت وقف بورڈ کے سابق رکن و کانگریس لیڈر بلال احمد اور جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب کے نائب صدر مولانا حکیم الدین اشرف اٹاؤڑی نے کی۔ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حکیم الدین اشرف نے کہا کہ ’’آج ہندوستان کے نوجوانوں کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو دانشمند ہو اور صحیح طریقے سے لوگوں کی رہنمائی کرے۔ اگر ہم ملک کے ماحول سے بے اعتنا رہے اور اس بات سے لاپروا رہیں کہ ملک میں کیا کچھ ہو رہا ہے، تو یہ ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ملک ڈوب رہا ہے، ملک میں اقلیتی طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، نفرت پھیلانے کے پروپیگنڈہ پر کام کیا جا رہا۔ جس طرح کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اگر ایسا ہی رہا اور ہم خاموش رہے تو نہ صرف مذہبی رسومات کا ادا کرنا مشکل ہو جائے گا بلکہ ایک ایسا بھی وقت آ سکتا ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں کی بقا بھی مشکل ہو جائے۔‘‘
مولانا حکیم الدین اشرف نے مظاہرے میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس نظریات کو لے کر بی جے پی ملک میں سیاست کر رہی ہے وہ ملک کی جمہوریت کے لیے مناسب نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے ذریعہ ایک مخصوص نظریہ کو آگے بڑھانا ملک کی تعمیر و ترقی اور عوام مخالف ہے۔ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے پیچھے جو منشا و نظریہ ہے، وہ ملک کے آئین و دستور کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ ملک کی عوام بلا تفریق مذہب و ملت بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئی ہے۔‘‘
اس موقع پر کانگریس لیڈر بلال احمد نے کہا کہ ’’سرکار کی پالیسی نہ صرف ایک خاص طبقہ کے خلاف کام کر رہی ہے بلکہ ملک کے سبھی پسماندہ طبقات کے بھی خلاف ہے۔ مودی حکومت کی پالیسیوں سے ملک کی عوام بری طرح متاثر ہوگی۔ عجیب بات یہ ہے کہ شہریت قانون اور این آر سی سے متعلق ملک کے وزیر اعظم کچھ بیان دے رہے ہیں اور وزیر داخلہ کچھ الگ بیان دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس تعلق سے کسی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔‘‘

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close