ہندوستان

بہوجن کرانتی مورچہ بلڈانہ کا این آر سی، سی اے اے، این پی آر کے خلاف احتجاجی ریلی

بلڈانہ ۸ جنوری (ذوالقرنین احمد ) شہریت ترمیمی قانون کے نافظ ہونے کے بعد سے پورے ملک میں اس کالے قانون کے خلاف احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی جیسے مشہور تعلیمی اداروں سے بھی اس کے خلاف احتجاج درج کیا گیا ہے۔ جو پورے ملک میں اب عام عوام میں پھیل چکا ہے۔ حکومت اپنے اقتدار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر قانون سازی کر رہی ہے۔ ملک کو تقسیم کرنے والے قانون بنا کر اقلیتی برادری کو نچلے درجے اور دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن عوام اس قانون کے خلاف سڑکوں پر اتر چکی ہے۔ کسی بھی قیمت پر وہ اس بل کو منظور کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
اسی کے تحت آج ۸ جنوری کو پورے ملک میں ۵۵۰ ضلعوں میں بہوجن مکتی مورچہ کے جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں بلڈانہ ضلع میں بروز بدھ صبح ۱۱ بجے بہوجن کرانتی مورچہ کے بینر تلے ایک احتجاجی مورچہ نکالا گیا جس میں دیگر او بے سی، اور اقلیتی برادری کے افراد نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ یہ ریلی شہر کے اہم راستوں سے ہوتے ہوئے ضلع کلکٹر آفس پر پہنچی ریلی میں خواتین بھی موجود تھیں۔ نوجوانوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ لیے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور کالے قانون کا بائیکاٹ کیا ریلی کے ذمہ دروں نے اس موقع پر کلکٹر کو ایک محضر پیش۔ مختلف مذاہب کے افراد نے ہم سب ایک ہے کہ نعرہ‌ دیا۔ اور ضلع کلکٹر آفس پر اس ریلی کا اختتام ہوا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close