ہندوستان

میری ہمشیرہ مرحومہ امیر النساءکی زندگی ایک کھلی کتاب تھی: الحاج اے محمد اشرف انجمن دانشمندان اردو چنئی کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس کا انعقاد!

چنئی ۔ 30 دسمبر 2019 (ساجد حسین ندوی) انجمن دانشمندان اردوکے زیر اہتمام تمل ناڈو کی ایک گمنام انشاءپرداز و افسانہ نگار مرحومہ امیر النساءبیگم صاحبہ کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس کا انعقادتمل ناڈو کرکٹ اسوسی ایشن کلب چیپاک میں منعقد ہوا۔اجلاس کا آغاز نیوکالج شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ساجدحسین ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ صدرشعبہ اردودی نیوکالج ڈاکٹرمحمد طیب علی خرادی نے پروگرام کی نظامت کی جبکہ مرحومہ امیر النساءصاحبہ کے شوہر نامدار اور سی عبد الحکیم کالج میل و وشارم کے کرسپانڈینٹ عالی جناب ضیاءالدین صاحب نے صدارت کے فرائض انجام دئے۔
تمل ناڈو کرکٹ اسوسی ایشن کے رکن ڈاکٹر عبید الرحمن احساس صاحب نے پروگرام کااستقبالیہ پیش کیا اورپروگرام کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ امیر النساءصاحبہ اورالحاج اے محمد اشرف صاحب سے ہمارے بہت پرانے خاندانی تعلقات ہیں۔ آج کا یہ پروگرام مرحومہ امیر النساءصاحبہ کے کارناموں کو یادکرکے ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی غرض سے منعقد کیا گیا۔ڈاکٹر عبید الرحمان صاحب نے اس بات کابھی اعلان کیا کہ انشاءاللہ بہت جلد انجمن دانشمندانِ اردو (ادا) کے زیر اہتمام ایک ادبی رسالہ بنام ”ادا“ کی اشاعت ہونے جارہی ہے، جس کا پہلاشمارہ امیرالنساءکی حیات وخدمات پرمشتمل( خاص نمبر) ہوگا، جس کو مرتب کرنے کی مکمل ذمہ داری ،صدر شعبہ اردو واساتذہ دی، نیوکالج ، چینئی کی ہوگی۔
جناب الحاج اے محمد اشرف صاحب نے اپنی ہمشیرہ مرحومہ امیر النساءصاحبہ کی زندگی کوبیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ آج میں خود کو کافی اکیلا محسوس کررہاہوں، بہن سے اتنے گہرے تعلقات تھے کہ جب بھی ان کی یاد آتی ہے توآنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیںاور دل غمگین ہوجاتا ہے۔۔ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تھی، جسے وہ اپنے افسانوی مجموعہ ”بندکتاب“ میں لکھ کر ہم سے جدا ہوگئیں۔ پچاس ساٹھ کی دہائی میں ہمارے یہاں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی خاص نظم نہ تھا، جس کی وجہ سے لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل تھا، میری بہن کو پڑھنے کا بے حد شوق تھااور وہ ہمیشہ والدہ سے لڑتی تھیں کہ مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن والدہ یہ کہکر ٹال جاتی تھی کہ ہمارے گھروںکا یہ ماحول نہیں ہے۔ والد کا سایہ بہت پہلے ہی سر سے اٹھ چکا تھا، جس کی وجہ سے اس نے اس کا اظہار مجھ سے کیا، میں نے گھر پر ہی اس کے لیے ہندی، انگریزی اور اردو کی تعلیم کا نظم کیا ، وہ اپنے مضامین لکھتیں اور مجھے دکھاتی تو بڑا تعجب ہوتا کہ اتنی کم تعلیم کے باجود اتنے عمدہ مضامین ،مجھے پڑھ کر بہت خوشی ہوتی۔ پھر وہ مضامین ہندوستان اور بیرون ممالک کے رسائل واخبارات میں شائع ہوتے اور لوگ ان کے مضامین پڑھ کر خطوط کے ذریعہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے۔ شادی کے بعد ہمارے بہنوئی محترم ضیاءالدین صاحب نے ان کی صلاحیت کو مزید نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے افسانے، ناول، مضامین اور سفرناموں کو کتابی شکل میں منظر عام پر لایا ۔ ان کا سفر نامہ ”سرحدکے اس پار“کا اجرا مدراس یونیورسٹی میں تمل ناڈو کے گورنر سرجیت سنگھ برنالاکے ہاتھوں عمل میں آیا، جب سرجیت سنگھ برنالا نے اس سفرنامے کو پڑھا تو اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کوپڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ میں انہی علاقوںمیںچل رہاہوں اور اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرررہاہوں۔“
ڈاکٹر محمدطیب علی خرادی نے اپنے تائثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ امیر النساءصاحبہ کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تر تھا،ریاست ِ تامل ناڈو کی واحد ناول نگار ہونے کا شرف آپ کو حاصل ہے ۔ ہمہ جہت ادبی خدمات اور تقریبا ہر صنف پر طبع آزمائی فرمائی ہیں۔ جیسے : ناول،افسانے ، سفرنامے اور انشائیہ وغیرہ۔وہ اپنی اپنی ذات میں ایک انجمن تھی ۔
پروفیسر سید سجا حسین سابق صدر شعبہ عربی فارسی و اردو مدراس یونیورسٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امیر النساءصاحبہ قلم وقرطاس کی ملکہ تھیں، انہوں 42سالوں تک ادبی دنیا میں حکمرانی کی۔ تمل ناڈو میں خواتین اہل قلم بہت کم ہیں ان میں سے ایک امیر النساءصاحبہ بھی تھیں، حالانکہ وہ کسی یونیورسٹی کی سند یافتہ نہیں تھیں، لیکن اس کے باجود انہوں نے اردوادب میں وہ کارنامہ انجام دیا جس پر آج تحقیق کرنے والے تحقیق کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررہے ہیں۔
پروفیسر قاضی حبیب احمد صدر شعبہ عربی ،فارسی و اردو مدراس یونیورسٹی نے کہا کہ امیر النساءصاحبہ کی تحریر کا سب سے واضح پہلو اسلام پسندی تھی، انہوں نے جو کچھ لکھا اس کا مقصد داد وتحسین حاصل کرنا اورادبی دنیا میں شہرت حاصل کرنانہ تھا بلکہ معاشرے کی اصلاح کرنا تھا، ان کی انشاءپردازی و ناول نگاری بامقصد ہواکرتی تھی ، وہ معاشرے کو اسلام کے سایہ میں دیکھنا چاہتی تھیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ وومنس ونگ کے اگزیکٹیو ممبر محترمہ فاطمہ مظفر صاحبہ نے کہاکہ مرحومہ امیرالنساءبہت سی خوبیوں کی مالک تھیں، وہ بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی ممبر تھی، ان کے ساتھ کئی پروگراموں میں شرکت کاموقع ملا، میں نے دیکھا کہ وہ ہمیشہ پروگرام میں سب پیچھے بیٹھتیں اور اپنے ہاتھ میں کاغذقلم لئے کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی۔ وہ آج ہمارے بیچ نہیں رہیں لیکن ان کی تحریریں موجود ہیں یہی ان کے لیے ذخیرہ آخرت ہے۔
تمل ناڈو کے مشہور مزاحیہ شاعر شاداب بے دھڑک نے علیم صبا نویدی کی تحریرکردہ گلہائے عقیدت بنام امیر النساءصاحبہ کو بڑے درد بھرے انداز میں پیش کیا۔
جامعہ دارالسلام عمرآباد سے شائع ہونے والا ماہنامہ راہ اعتدال کے ایڈیٹر محمد رفیع کلوری عمری نے امیر النساءصاحبہ کی کتابیں پڑھ کر اپنے تاثرات کو قلم بند کیاتھا جسے اے محمد اشرف صاحب نے ایک کتابچہ کی شکل میں شائع کروایا ، اس کتابچہ کا اجرا عالیجناب ضیاءالدین صاحب کے ہاتھوں عمل میں آیا اور پہلی کتاب ان کوسپرد کی گئی۔
اخیر میں ان کے فرزند جناب افتخاراحمد صاحب نے آبدیدہ ہوکر آنے والے جملہ مہمانوں کاشکریہ ادا کیا اور اپنی والدہ کی بے شمار خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں مجھے اپنی والدہ کے تعلق سے بہت سی ایسی باتوں کا علم ہوا، جو مجھے پہلے معلوم نہ تھا۔ میری دختر نے اپنی دادی کے انتقال پر کہاتھاکہ ہماری چہکتی دمکتی صبح وشام سب ختم ہوگئی، تم کیا گئے روٹھ گئے دن بہار کے۔انہوں نے اس شعر پراپنی بات ختم کی۔ نہ جانے کتنے چراغوں کو مل گئی شہرت ٭ ایک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے۔
ڈاکٹر عبید الرحمان احساس صاحب نے جملہ مہمانوںکا شکریہ اداکیا اور مولانا تمیم قاسمی کی دعاءپر مجلس کا اختتام ہوا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close