ہندوستان

شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی اورقومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان نئی دہلی کے اشتراک سے چوتھامنظراعظمی میموریل لیکچرکااہتمام

جموں(طارق خان جنجو عہ) شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی اورقومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان نئی دہلی کے اشتراک سے چوتھا منظراعظمی میموریل لیکچر کااہتمام کیاگیا جس میں کنیڈاکے معروف اُردواسکالر ڈاکٹرتقی عابدی نے طلباءکو”فراق کی رباعیوں کے روپ“کے موضوع پرمغزاورمعلومات سے بھرپورلیکچردیا۔اس دوران وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسرمنوج کماردھرمہمان خصوصی تھے۔ڈاکٹرتقی عابدی نے اپنے لیکچرمیں فراق گورکھپوریکی شاعری بالخصوص رباعیات پرسیرحاصل بحث کی۔انہوں نے فراق کی منفردتکنیک کے بارے میں طلباءکواہم معلومات دی۔ ڈاکٹرتقی عابدی نے فراق کے متنوع ومختلف موضوعات کے اُرددشعربھی پڑھے۔لیکچرکوشرکاءنے خوب پسندکیا اورلیکچرکے بعدطلباءنے فراق گورکھپوری کی شاعری سے متعلقمختلف سوالات بھی قائم کئے جن کے انہیں اطمینان بخش جوابات دیئے گئے۔پروفیسرمنوج کماردھر،وائس چانسلرجموں یونیورسٹی نے اپنے خطاب میں شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کوپے درپے ادبی تقریبات کے انعقادکےلئے مبارکبادپیش کی ۔انہوں نے کہاکہ شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کامتحرک ترین شعبہ ہے جہاں پرآئے روزمختلف ادبی سیمیناروں ،لیکچروں ،مشاعروں اوردیگرمعلومات تقریبات کااہتمام ہوتاہے۔انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان نئی دہلی کے اُردوزبان وادب کی ترقی کے لئے انجام دیئے جارہے رول کوبھی سراہا۔ پروفیسرمنوج کماردھرنے پروفیسرمنظراعظمی کو ایک ایمانداراستاداوراُردوزبان کاعظیم اسکالرقراردیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ پروفیسرمنظراعظمی کی تحقیقی کتاب ان کانام ہمیشہ زندہ رکھے گی۔قبل ازیں پروفیسرشہاب عنایت ملک ،ڈین فیکلٹی آف آرٹس اورصدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی نے استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے بتایاکہ شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کومنظراعظمی لیکچر کی منظوری قومی کونسل برائے فروغ اُردوزبان نئی دہلی نے 2010 میں دی تھی اوراس کے بعدسے اس لیکچرکااہتمام مسلسل ہورہاہے۔انہوں نے منظراعظمی نے شعبہ اُردومیں لیکچرر،ریڈر،پروفیسراورصدرشعبہ کی حیثیت سے شاندارتدریسی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ایک درجن سے زائدتحقیقی کتابیں لکھی گئیں جواعلیٰ ادبی شاہکارکی حیثیت رکھتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ منظراعظمی ایک اعلیٰ پایہ کے شاعربھی تھے اوران کی خدمات کے پیش نظرقومی کونسل نے لیکچرکی منظوری دی جوکہ پروفیسرموصوف کوشاندارخراج عقیدت ہے۔اس موقعہ پر ڈاکٹرتقی عابدی پرایک ادبی ضمیمہ ”حکیم الامت “کااجراءوائس چانسلرجموں یونیورسٹی پروفیسرمنوج کماردھرکے ہاتھوں کیاگیا۔ حکیم الامت سرینگرکشمیرسے ظفرحیدری نکالتے ہیںاور اس ادبی رسالے نے مختلف ادبی شخصیات کے فن اوران شخصیت پرمختلف ضمیمے نکالے ہیںاوراب ڈاکٹرتقی عابدی کے فن وشخصیت پریہ ادبی نمبر جاری کیاگیاہے۔یہ خصوصی نمبر 332 صفحات پرمشتمل ہے۔اس میں پروفیسر شہاب عنایت ملک، پروفیسرخواجہ اکرام الدین،پروفیسرشارب ردولوی، پروفیسرعلی محمدفاطمی ،پروفیسربیگ احساس اورپروفیسراکبرحیدری کی طرف سے ڈاکٹرتقی عابدی کے فن وشخصیت پرلکھے گئے مضامین لکھے گئے ہیں۔ اس دوران لیکچرکی نظامت کے فرائض ڈاکٹرمحمدریاض احمد،ایسوسی ایٹ پروفیسرنے انجام دیئے جبکہ ڈاکٹرعبدالرشیدمنہاس ،اسسٹنٹ پروفیسرنے شکریہ کی تحریک پیش کی۔اس دوران لیکچرمیں طلبائ، اسکالرس ، فیکلٹی ممبران اورسول سوسائٹی ممبران بھی موجودتھے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close