ہندوستان

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اِس وقت ایک عجیب انقلابی آہنگ میں ہے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اِس وقت ایک عجیب انقلابی آہنگ میں ہے، جمعہ بعد ظالمانہ NRC اور متعصبانہ سنگھی شہریت ترمیم قانون کے خلاف، فرزندانِ توحید کا جو مارچ نکلا، علی گڑھ جامع مسجد سے، اُس میں 10 ہزار سے زائد اسٹوڈنٹس شریک ہیں، بابِ سیّد سے لے کر چُنگی تک صرف طلبہ ہی طلبہ اور اُن کے انقلابی عزائم کی گونج ہے_
بابِ سیّد، پر تقریباً آدھے گھنٹے تک پولیس فورس نے اِس آندولن کو روک رکھا تھا لیکن، بلآخر طلبہ پولیس کے بریکٹ توڑ کر آگے بڑھ چکے ہیں، موقع پر موجود وائس چانسلر اور پولیس اہلکاروں کی اِس مارچ کو روکنے کی کوشش پوری طرح ناکام ہوچکی ہے، طلبہ کے انقلابی جذبات کے آگے سرکاری انتظامیہ گھٹنے ٹیک چُکا ہے_
چشم دیدوں کے مطابق بتایا جارہا ہیکہ، یہ علی گڑھ کی تاریخ کا سب سے بڑا، سب سے زبردست اور سب سے خطرناک تیور والا آندولن ہے، یہ آندولن مولانا حسرت موہانی کی صراحت کے ساتھ اور اُن کے نعرے انقلاب کو بلند کرکے شروع ہوا، جو رفتہ رفتہ ایک فعلِ رواں بن چکا ہے، جو اب کسی کے بھی قابو میں نہیں آ رہا ہے_
موسلا دھار بارش میں بھی، وائس چانسلر، سرکاری افسران، مودی، امت شاہ، اور ظالمانہ قوانین کے خلاف، فلک شگاف نعروں سے پورا علی گڑھ گونج رہا ہے_
اِسی طرح، صحیح معنوں میں یہ ہیکہ، اِس وقت اِس احتجاجی مارچ سے علی گڑھ کی زمین دہل رہی ہے_
الله سے دُعا ہے کہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات اور سرفروش دیوانوں کی حفاظت فرمائے، آمین_

✍️ سمیع اللہ خان،
جنرل سیکرٹری، کاروانِ امن و انصاف_

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close