ہندوستان

لاک ڈاؤن،مدارس اسلامیہ،طلبہ،اساتذہ اور ان کے مسائل

معروف ماہر تعلیم و نامور اردو قلم کار اور مدرسہ بیت العلوم گوکل پور کمال پور میرٹھ کے سینئر استاذ جناب قاری محبوب الحسن مظفرنگری کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے سبب لاک ڈاؤن نے مدارس کے نظام تعلیم کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے ۔ گذشتہ سال 22 مارچ کو جنتا کرفیو اور اس کے بعد لاک ڈاؤن سے مدارس میں درس و تدریس کا سلسلہ بالکل بند ہے ۔ دیگر ریاستوں کی طرح اترپردیش کے مدارس میں بھی نظام تعلیم کا سلسلہ منقطع ہے ۔ ریاست کے ہزاروں مدرسوں میں قائم دارالاقامہ خالی پڑے ہیں ۔ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے سینکڑوں بچے لاک ڈاؤن میں اپنے گھروں میں رہنے کو مجبور ہیں ۔ عیدالفطر کے بعد مدارس میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہوتا ہے ۔ نئے بچوں کے داخلے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہ تو داخلے کا عمل شروع ہوا اور نہ ہی نئے تعلیمی سیشن کی شروعات ہوسکی لہٰذا حکومتی امتناعی احکامات کے بموجب مدارس نہیں کھولے جا سکتے-
انہوں نے طلبہ کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے سے متعلق آگے کہا کہ مدارس میں پڑھنے والے طلبہ تھوڑی تھوڑی تعداد میں اپنے تعلیمی سلسلے کو مقامی صاحب فن علماء کرام سے پڑھ کر جاری رکھ سکتے ہیں۔ اور ترقی بھی پا سکتے ہیں۔ مدارس کی طرح مکاتب بھی کھلے عام نہیں چلائے جا سکتے- ہاں البتہ بھیڑ کی بجائے محلے یا بستی کے محدود بچوں کو لے کر اس سلسلے کو جاری رکھا جا سکتا ہے ان پر بہ آسانى عمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ طریقے سب سے آسان معلوم ہوتے ہیں یعنی احتیاطی تدابير کے ساتھ ٹیوشن کا سلسلہ جاری رکھا جا ئے اور اس طرح حالات معمول پر آنے تک تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا جائے دوسری طرف ارباب حکومت کو بھی چاہئیے کہ جہاں اور دوسری چیزیں انلاک کردی گئی ہیں تو تعلیمی اداروں کو بھی کھول دیا جائےجناب قاری صاحب آگے گوش گزار ہوئے کہ لوگ ڈاؤن کو تقریبا سترہ مہینے کا عرصہ گزر چکا ہے اس دوران اہل مدارس کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظر نہیں آرہی ہے جو غریب طلباء اپنے والدین کی محنتوں کے سہارے تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے اکثر نے معاشی بد حالی کے سبب مجبوراً تعلیم کو خیر آباد کہہ کر دیگر کاموں میں مشغولیت کا فیصلہ کرلیا ہے مدارس میں جن کی واپسی ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے علماء کرام حفاظ و قرآء حضرات جو نونہالان قوم کے مستقبل کے معمار سمجھے جاتے ہیں اور جنہوں نے اپنا سب کچھ اسی پر لگا رکھا ہے ان کے ساتھ بھی اکثر جگہوں پر نامناسب سلوک کیا گیا ان کی تنخواہیں روک لی گئی جس کی وجہ سے ان کے بچے فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے اور دل اس وقت بہت مغموم ہوا جب مدارس اور مساجد سے جڑے لوگوں کی خودکشی کے دل دوز خبریں ہمارے کانوں میں پڑی اور نامساعد حالات کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اگر مدارس کی بندش کا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھا تو حالات اور دگرگوں ہو سکتے ہیں اس لئے ہم ارباب حل و عقد اور حکام وقت سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ بازار ہوٹل شاپنگ مال اور بارات گھر سنیما ہال مارکیٹ وغیرہ کھولی جاچکی ہیں تو اسی طریقے پر تعلیم گاہوں کو بھی کھول دیا جائے تاکہ طلبا و اساتذہ کے مستقبل کو مزید برباد ہونے سے بچایا جاسکے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close