ہندوستان

ملک میں بڑھتی عدم رواداری اور ملی کوتاہیوں پر عوامی تاثرات پر ایک خاص جائزہ

جمہوری نظم ونسق والا ہمار ا وطن نفرت اور عدم رواداری کا شکار کیوں!

سہارنپور( احمد رضا) ملک میں شاندار طرز زندگی، کم خرچ میں بہترین تعلیم وتربیت، روزگار کے بہتر مواقع، جلد اور سہل طور سے شکایات کا ازالہ، اطمینان بخش نظم نسق، خوف و تنائو سے آزاد شہری آبادی ، ہر طبقہ میں امن و امان، آپسی بھائی چارہ،مہنگائی سے راحت اور سرکاری مشینری کے جبر و ستم سے بے خوف عام شہریوں کو اپنی زندگی جینے کی آزادی حاصل رہنا ہمارے مقدس آئین کی شاندار خصوصیات بھی یہی ہیں اور یہی قابل قدر خصوصیات کسی بھی چنی ہوئی سرکار کی تعریف کا سنہرا ورق ہوتی ہیںکسی بھی چنی ہوئی سرکار کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہرکسی شہری کو اطمینان بخش اور خوشحالی سے بھر پور ماحول میں جمہوری قدروں اور راحتوں سے مالامال کرنے والی عمدہ کارکردگی کی ضامن بنے اپنے پاک عہدے کا لحاظ رکھے اور صاف شفاف کردار نبھائے ہیں اگر ان سبھی خصوصیات میں سے کسی ایک شرط میں بھی جھول پایا جاتاہے توپھر مخالفین کو چنی ہوئی سرکار کی مذمت کرنے کا بھر پور مقع اور حق ملتاہے کہ وہ سہی کو سہی اور غلط کو غلط کہیں یہاں سچ بولنے والوں پر سرکاری مشینری کا عتاب گھنونا طرز عمل ہے اسکو ہی تاناشاہی کہاجاتا ہے شاید آج ہمارے ملک میں یہی شیطانی طرز عمل رائج ہے کمشنری میں مارچ۲۰۲۰لاک ڈائون سے آج پندرہ ماہ کی مدت تک پولیس کے عتاب کا شکار بنے لاکھوںبیقصور مسلم افراد کی جیل سے رہائی کے بعد انکی زبانی تجربہ بھی یہی ظاہر کرتاہے کہ ملک کی سرکاری مشینری نفرت اور تعصب کیساتھ کار وائی انجام دینے میں سرگرم لگتی ہے سرکار اور اپنے خدکیخلاف آواز اٹھانیوالے افراد پر فوری طور سے سخت شکنجہ کسنے میں دیر ہی نہی لگاتی ہے!
ملک بھر میں ان دنوں ایک خاص سازش کے تحت جمہوری وطن کو ہندی ریاست بنانیکا آر ایس ایس کا ایک سو چالیس سال پرانہ خواب پائے تکمیل کو پہنچانیکی بے تکی سوچ کے مطابق ملک کے ہندو افراد کو مسلم طبقہ کیخلاف نفرت پھیلاکر بھیاجپانے ۲۰۱۴ میں سرکار بنائی اسکے بعد مسلم مخالف بھرم پھیلاکر ہندو خطرے میں ہے کا نعرہ دیکر ۲۰۱۹ میں پھر سے۷ اقتدار پر قبضہ جمالیا کانگریس کو مسلم طبقہ سے جوڑ کر ملک کے الیکٹرانک چینلوں اور چند ہندی اخبارات کی مدعد سے کانگریس مکت بھارت کا سپنا دیکھنے لگے کورونا کی آڑ میں تبلیغی جماعت کے لاکھوں ارکان کا ذلیل تک کر ڈالا اتناہی بلکہ اس سے شرمناک پہلو تو یہ ہیکہ جس گھرانہ اور قبیلہ کے ہزاروں علماء کرام نے ملک کی آزادی کیلئے جان اور مال کی زبردست قربانیاں پیش کی ہیں اس گھرانہ کے چشم و چراغ مولانا سعد تک کو کھلے عام چینلوں پر انکے انکرس اور بھاجپائی قائدین نے کھل کر گالیاں دی اور مسلم تبلیغی جماعت اور ہمارے قابل تعظیم تبلیغی مرکز کو کورونا بم تک قرار دے دیا مرکز کی بھاجپا سرکار تماشا دیکھتی رہی مولانا سعد پر اور تبلیغی جماعت پر چوطرفہ سرکار، پولیس اور ای ڈی کے ذریعہ حملہ کیا گیا پولیس اور سرکاری مشینری کے جبر کے سامنے ملت کے ٹھیکیدار علماء کرام بھی خاموش بیٹھے رہے کوئی اپنے دین اور عالم کی مدد کو سڑک پر نہی آیا ملک کا سیکولر ہندو ہی سامنے آیا ہندو وکلاء حضرات نے عدالتوں سے رجوع کیا پورے ملک میں جیلوں میں جبریہ طور سے قیدی بناکر رکھے گئے لاکھوں مسلم افراد اور تبلیغی ارکان کو با عزت آزاد کرایا آج تبلیغی ارکان پر توہمتیں لگاکر انکو بدنام کرنے والے الیکٹرانک چینلوں پر عوام کی شکایات پر مہذب عدالتوں کے ذریعہ سخت ایکشن لئے جانیکا منصفانہ عمل جاری ہے!
حق کی خاطر اور سرکار کی مسلم مخالف سوچ کیخلاف آواز بلند کرنیوالے نوجوان جامعہ ملیہ اسلامیہ اوردہلی یونیورسٹی کے مہذب طالب علم بھی آخر اسی مسلم مخالف سرکاری سازش کا نظریہ اجاگر کرنے میںسرکار کے عتاب کا شکار بنے ملک سے غداری کے فرضی کیس میں ایک سال سے جیل میں بنددیش کی بیٹی نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتہ اور ملک کے بہادر بیٹے آصف اقبال تنہا کو آخر ایک معیاری فیصلہ سناتے ہوئے اور دہلی پولیس اور سرکار کے من مانے ایکٹ کی حیثیت کو درکنار کرتے ہوئے جیل سے رہائی کے آڈر دئے دہلی پولیس سے ہائی کورٹ کا فیصلہ برداشت نہی ہوا آنن فانن میں پولیس رہائی کے حکم کیخلاف سپریم کورٹ جاپہنچی مگر حالات کے مد نظر سپریم کورٹ کے قابل ججوں نے تینوں طالب علموں کی جیل سے رہائی روکنے پر کسی بھی طرح سے آڈر جاری کرنے سے انکار کردیا یعنی کہ جن افراد نے بھی گزشتہ سات سال کی مدت میں سرکاری مشینری کے کھلے عام مذمت کی اور مسلم طبقہ پر ہونیوالے سرکاری ظلہم وستم کیخلاف آواز اٹھائی انکو الیکٹرانک چینل انکرس اور پولیس نے خوب سے خوب تر انداز میں اپنے لعن طعن، جبر اور ستم کا نشانہ بنایا آج پورے ملک میں جو کچھ بھی تماشا ہورہاہے وہ آپ سبھی کے سامنے ہے ہم سبھی کا بھروسہ ملت کے رہبروںور سیاست دانوں سے اٹھ چکاہے قوم لٹ پٹ رہی ہے کوئی پولیس کے سپاہی سے جبر اور ستم کی بابت سوال کرنے کی ہمت ہی نہی کر تاہے اے سی روم میں بیٹھ کر بیانات جاری ہوتے ہیں سرکاری اسکیموں کی تشہیر کرتے ہیں مسجدوں کو بند ر۵کھنے کی ہدایات دیتے ہیں اور بھوک سے تڑپ رہے قوم کی افراد کی پرواہ ہی نہی کرتے سہارنپور کمشنری کے تینوں اضلاع میں گئو کشی کے فرضی الزامات میں قید ہزاروں افراد پر سرکار نے جو این ایس اے لگایا تھا ریاستی جانچ کمیٹی نے مسلم افراد پر لگائے گئے ۹۳ فیصد مقدمات فرضی قرار دئے اور مسلم افراد کو این ایس اے کی کاروائی سے رہائی کے احکامات جاری کئے اسکے بعد بھی ملی قائدین گئو کشی میں فرضی پھنسائے گئے مسلم افراد اور تبلیغی ارکان کی ذلت اور رسوائی پر ایک لفظ بھی سرکار کے خلاف بولنے کی ہمت نہی دکھا پائے سرکاری دمن و ستم کیخلاف یہاں لگاتار بول رہی ہے عام آدمی پارٹی، کانگریس اور سماجوادی قیادت آپ خد نتیجہ نکالیں کہ ہم پر ہونیوالے ظلم وستم پر چپ رہنے والے بھلا قوم کا بھلا کیا کریں گے!
اس میں کسی طرح کا کوئی شک ہی نہی کہ وطن عزیز کی ہوائوں میں ایک خاص تنظیم کے زریعہ پچھلے ایک سو تیس سال سے جو نفرت کا زہر گھولا جارہاہے اسکے بعد بھی ہمارے جمہوری ملک کا ستر فیصد ہندو طبقہ چاہے وہ سرکاری مشینری کا حصہ ہے یا پھرعام شہری وہ آئین کے مطابق مل جل کر رہنا پسند کرتاہے امن کا حامی ہے تمام مذاہب کا احترام کرتاہے لیکن ایک جائزہ کے مطابق گزشتہ عرصہ میں ہمارے مہذب اور امن پسند عوام کے آپسی رابطوں اور لین دین کے درمیان نفرتوں کی آگ بھڑکاکرلوجہاد، تبلیغی جماعت اور دہشت گردی کے فرضی الزامات لگاکر ایک خاص فرقہ کیساتھ غیر انسانی اور غیر آئینی برتائو لگاتار چھ برس سے ہمارے ووٹ سے چنی ہوئی سرکار اور اسکی مشینری کیجانب سے کیا جارہاہے جو سبھی کے سامنے کھلی نفرت اور نظریاتی کڑواہٹ کی صورت میں کل عالم کے سامنے عیاں ہے اتناہی نہی بلکہ چند بھاجپائی ریاستوں کی سرکاروں کے ذمہ داران کا برتائو بھی امن پسند عوامکے ساتھ غیر اخلاقی اور غیر انسانی طور پر لگاتار سامنے آ رہاہے اسمیں کوئی دورائے نہی کہ از خد ہمارے چند مرکزی اور ریاستی وزراء ابھی بھی مکمل طور سے دل کے صاف اور مہذب زبان کے مالک ہیں انمیں کھوٹ کچھ زیادہ بھی نہی مگر انکے ہم نوالہ اور ہم پیالہ لیڈران کی زبان سے اکثر ملت اسلامیہ کے لئے موقع بے موقع زہریلے تیر ہی باہر نکلتے ہیںجبکہ عہدے کا حلف لیتے وقت ان سبھی کے طور طریقوں سے یہ ثابت ہونے لگتاہیکہ انکے ذہن و دل میں بھی ہندو مسلم اور امیر وغریب دونوں کیلئے ہمدردی اور بہتری کا جذبہ موجود ہے مگر برتنے کے بعد نتیجہ سامنے آرہاہیکہ یہ تو کچھ اور ہی چاہتے ہیں بھلاان پر فتن حالات میں ملک کو سوا ارب عوام کس طرح امن اور راحت کی بابت سوچ بھی سکتاہے اسلئے لازم ہے کہ مرکز اور ریاستی سرکاریں اپنا طرزعمل تبدیل کریں یہ ملک سبھی کاہی کسی کی داد الٰہی ملکیت نہی یہ بھی سچ ہے کہ مسلم طبقہ نے ملک کی آزادی کی لڑائی میں جس قدر شہادتیں وطن کی آن بان شان اور آزادی کیلئے پیش کی ہیں اتنی کسی دیگر اقوام نے پیش نہی کی یہ انڈین اور یوروپین تاریخ کے سنہرے اوراق ایک سنہری سند ہے جو تا قیامت ہماری وفاداری اور شہادتوں کی گواہ رہیگی!

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close