ہندوستان

غریب ملکوں کو مل رہی فنڈنگ میں رنیوایبل کے بجائے گیس کو مل رہی ترجیح

کلائمیٹ سے متعلق وعدوں کے باوجود عوامی ادارے قدرتی گیس کو ہوا یا سولر کے بالمقابل چار گنا زیادہ فنڈ فراہم کرتے ہیں

رپورٹ: نشانت سکسینہ
ترجمہ: محمد علی نعیم

توانائی کے شعبے کے لئے اگر فنڈنگ کی بات کی جائے تو عالمی مالیاتی ادارے کم اور درمیانہ آمدنی والے ممالک میں سولر یا ہوا کے بالمقابل گیس کے منصوبوں کو چار گنا زیادہ فنڈ فراہم کرارہے ہیں ، ایسا انٹرنیشنل فار سسٹینبل ڈویلپمنٹ کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے
سال 2017 سے 2019 تک کم اور درمیانہ آمدنی والے ممالک کو گیس منصوبوں کے لئے تقریبا سالانہ 16 بلین امریکی ڈالر انٹرنیشنل عوامی فنڈ حاصل ہوا جس میں سے 60 فیصد عالمی بینک اور چین، جاپان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سے آیا، انٹرنیشنل مالیاتی اداروں نے کورونا کے وبائی دور میں گیس کو ترجیح دینا جاری رکھا ہے
اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ 2020 میں جواشم ایندھن(حیاتیاتی ایندھن) کے لئے دنیا کی ترقیاتی بینکوں سے آئ فنڈنگ کا 75 فیصد سے زیادہ حصہ گیس کے منصوبوں میں گیا ہے
اس رپورٹ کے اہم محقق گریگ موٹٹ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر پبلک فائننس کم اور درمیانہ آمدنی والے ملکوں میں نہ صرف گیس کی ایک نئی تیز دوڑ کو فروغ دیرہا ہے بلکہ کلائمیٹ سے متعلق کوششوں کو کمزور کرتے ہوئے اور ملکوں کی معیشتوں کو ماضی کی زیادہ کاربن والی توانائیوں کے جال میں پھنسارہا ہے
رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکوں کی توانائی ضروریات کی تکمیل کے لئے گیس درکار نہیں ہے کیونکہ رنیوایبل متبادل پہلے سے ہی موجود ہے جنمیں بجلی،بلڈنگ اور لائٹ انڈسٹری ٹیکنالوجیز کے لئے بطور متبادل شامل ہے
رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ استعمال کے لئے رنیوایبل توانائی (قابل تجدید توانائی) پہلے ہی گیس سے سستی ہے یا 2030 تک مزید سستا ہونے کے امکانات ہیں
محققین کا کہنا ہے کہ دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ملکوں کو دوررس موسمیاتی اور اقتصادی واجبات سے بچنے اور صاف سبز توانائی کی جانب رخ کرنے کے لئے عالمی سطح پر فنڈنگ کی ضرورت ہے ، رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ انٹرنیشنل مالیاتی اداروں کو گیس کی تلاش، پیداوار اور گیس پاور پلانٹ نیز گیس کے دیرپا بنیادی انفراسٹرکچر جیسے پائپ لائن وغیرہ کے لئے ہر ممکن مدد روک دینی چاہئے
رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اداروں کو اس کے بجائے رنیوایبل توانائی کو پاور گرڈ میں ضم کرکے ٹیکنالوجی شئیرنگ کو فروغ دینے اور سب کے لئے صاف سبز توانائی پہنچانے کے انتظامات کرکے ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک پائیدار معیشت کی تیاری میں مدد کے لئے سرمایہ کاری کرنا چاہیے
موٹٹ آگے کہتے ہیں کہ ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں ، یوروپی سرمایہ کاری بینک سمیت کچھ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پیرس معاہدہ کے اہداف کے مطابق نئی گیس اور تیل کی مالی اعانت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن انکے علاوہ تمام مالیاتی ادارے گیس کی حمایت جاری رکھتے ہیں ، جس طرح سے آسٹریلیا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسے ممالک نے اپنی لیکویفائڈ قدرتی گیس کے ایکسپورٹ میں بڑے پیمانے پر توسیع کی ہے اس سے اب لگتا ہے کہ نئی گیس کے بنیادی انفراسٹرکچر کو فنڈنگ کرنے والے عوامی مالیاتی ادارے غریب ممالک کی ضروریات کی تکمیل کے بالمقابل طاقتور ملکوں کو فائدہ زیادہ پہنچا رہے ہیں
رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ گیس کی نئی ترقی پیرس معاہدہ کے مطابق نہیں ہے
انٹرنیشنل توانائی ایجنسی کی حالیہ شائع شدہ 2050 تک کی نیٹ زیرو رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ نئے جیواشم ایندھن کی سپلائی میں سرمایہ کاری کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انٹرگورمینٹل پینل آن کلائمیٹ چینج کے ذریعے شائع اس رپورٹ کے مطابق زمینی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کے ہدف کے مطابق 2020 سے 2050 کے درمیان عالمی گیس کی کھپت میں 55 فیصد اور بغیر تعطل گیس پاور کی پیداوار میں 87 فیصد کمی ہونی چاہئے
موٹٹ بتاتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ فی الحال نئے تیل اور گیس بجٹ کو ختم کرنے کا جائزہ لے رہاہے اور عالمی بینک اور دیگر کے دباؤ میں ہے، اب جبکہ سرمایہ کاری اور پالیسیاں تیل اور کوئلے سے دور ہونے لگی ہیں تو اہم بحث تیسرے جیواشم ایندھن (حیاتیاتی ایندھن) گیس کے بارے میں ہے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close