ہندوستان

مولانامحمدولی رحمانی حق گورہنماتھے:آل انڈیاتنظیم علمائے حق

نئی دہلی4اپریل(آئی این ایس انڈیا) امیر شریعت بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈاور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر مولانامحمدولی رحمانی کے سانحۂ ارتحال کو ملک و قوم کا عظیم اور ناقابل تلافی خسارہ قرار دیتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر اور مشہور عالم دین مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ مرحوم نہ صرف ایک باصلاحیت، ذی استعداد وسیع علم و مطالعہ کے حامل بلندپایہ عالم دین تھے، بلکہ ایک بے باک، جرأت مند اور حق گو سیاسی رہ رنما بھی تھے، وہ تقریباََ۲۲ سال تک بہارقانون ساز کونسل کے رکن رہے اورقائدانہ جرأت و استقلال کے ساتھ مسلمانوں کے دستوری اور آئینی حقوق کے تحفظ اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے منصوبوں کو رو بہ عمل لانے کے لیے کوشاں رہے۔

انھوں نے نازک حالات میں عزم و حوصلے سے کام لیتے ہوئے اہم دینی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی مسائل میں ملت اسلامیہ ہندیہ کے موقف کی ترجمانی اور دشمن و مسلم مخالف عناصر کے سامنے حق گوئی و بے باکی کا جوبے لوث مظاہرہ کیا ہے، وہ تاریخ کے صفحات میں جلی حروف میں درج کیا جائے گا۔انھوں نے کہاہے کہ مولانا صرف ایک گوشہ نشیں اور دنیا و مافیہا سے بے نیاز و بے خبر خشک قسم کے مولوی نہ تھے، بلکہ ایک دل درد منداور فکر ارجمند رکھنے ولے مخلص و ہم درد سیاسی قائد اور ملکی و عالمی حالات کی نبض پر انگلی رکھنے والے زیرک و ہوش مند اور در رس و زمانہ شناس رہ نما بھی تھے، وہ قدیم و جدید، دین پرست و روشن خیال، دینی اور عصری تعلیم یافتہ تمام حلقوں میں یکساں مقبول تھے اور جس مجلس یا جس نشست میں بھی جلوہ افروز ہوتے تھے، اپنی طلاقت لسانی ، حسن اخلاق، اچھوتے اور ادبی طرز تکلم اور منفرد ادائے دلبری کی وجہ سے سبھی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلیتے تھے اور میر محفل بن جایا کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ مولانا ولی رحمانی نے ملک کے اطراف و اکناف میں پھیلے نہ صرف ہزاروں دینی مدراس و مکاتب کی سرپرستی کی، ان کے تعلیمی معیار کو آگے بڑھایا، بلکہ قوم و ملت کے بچوں کو عصری میدان میں بھی آگے بڑھانے اور انھیں اوج ثریا پر فائز کرنے کا ان کا جذبہ بھی دیدنی تھا۔ انھوں نے رحمانی تھرٹی، رحمانی فاؤنڈیشن اور کئی دوسرے عصری ادارے قائم کرکے زبوں حال اور پسماندہ مسلمانوں کے بچے کو جدید تعلیم کے میدان میں ترقی کی منزل مقصودتک پہنچایا، انھیں انجینرنگ، میڈکل اور اکاؤنٹنٹ جیسے مشکل اور سخت مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کراکے ملک کے اعلی اور معیاری حکومتی اداروں تک پہنچایا۔ مولانا قاسمی نے مولانا مرحوم کے ساتھ اپنے ذاتی مراسم و روابط کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے ساتھ ناچیز کے گہرے مستحکم اور مخلصانہ تعلقات قائم تھے، مولانا بڑے خورد نواز اور اصاغر پرورواقع ہوئے تھے، اپنے ہم عصروں اور چھوٹوںکی تربیت کرنا ، انھیں مختلف میدان میں آگے بڑھنے کے لیے مہمیز کرنا اور ان کے روشن مستقبل کی فکر کرنا ان کا ا نشان امتیاز تھا۔

تنظیم علماء حق کے کئی پروگرام، سیمنار اور کانفرنس میں مولانا رحمانی بنفس نفیس شریک رہے ، وہ تنظیم کے منصوبوں اور پروگراموں کی دل کھول کر ستائش کرتے تھے اور نئے موضوعات کی طرف ہماری رہنمائی کرتے اور مفید مشورے دیتے رہتے تھے۔ ان کے انتقال سے تنظیم علماء حق اور وابستگان تنظیم کا بھی زبردست خسارہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا ولی رحمانی نے قوم و ملت کی ترقی اور دگر گوں حالات میں بھی میدان سیاست میں مسلمانوں کی قیادت و نمائندگی کا جو فریضہ انجام دیا ہے، اس کی مثال عصر حاضر میں کم یاب و نایاب ہے۔ بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ وہ مولانا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے، ان کے پسماندگان و اہل خانہ، اولاد و احفاد کو صبر جمیل کی توفیق دے، امت مسلمہ ہندیہ کو ان کا نعم البدل عطا کرے اور انھوں نے مختلف تعلیمی اداروں کی شکل میں جو سرمایہ چھوڑا ہے، اس کی تمام شرور و فتن سے حفاظت کرے اور ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔آمین!۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close