ہندوستان

دعوتی مہم میں تعاون اور اس کی فہمائش کے لیے جماعت اسلامی کی عمائدین کے ساتھ اہم نشست

دعوتِ دین کا کام محض مہم کی حد تک نہیں، بلکہ مؤمن کو تادمِ آخر کرنا ہے۔

جلگاؤں (ہندوستان اردو ٹائمز) جماعت اسلامی ہند، مہاراشٹر کی جانب سے بندگانِ خدا تک اسلام کی دعوت کو پہنچانے کی غرض سے ریاست گیر سطح پر دعوتی مہم بنام ”مِن َالظُّلُمٰتِ اِلَی النُّور“(اندھیروں سے اُجالے کی طرف) 22جنوری 2021ء سے منائی جارہی ہے۔ جس کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے والے با اثر افراد کی حمایتیں، تعاؤن حاصل کرنے نیز متحرک شرکت کے لیے مختلف پروگرامس کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسی ضمن میں شہر جلگاؤں کے عمائدین کی ایک اہم نشست حال ہی میں ڈاکٹر علامہ اقبال ہال، اقبال کالونی، مہرون میں منعقد کی گئی۔ جس میں مہم کا تعارف اور مقاصد پیش کرتے ہوئے عمائدین سے مشورے اور تجاویز مانگی گئیں۔پروگرام کی غائیت پیش کرتے ہوئے نائب امیر مقامی سُہیل امیر صاحب نے کہا کہ یہ محض جماعت اسلامی کی مہم نہیں اور نہ ہی یہ کام کسی مہم منانے تک محدود ہے بلکہ یہ ملّت اسلامیہ کے ہر فرد کا فرض ِمنصبی ہے اور تا دمِ آخر کرتے رہنا ہے۔ ملک کے موجودہ تعصب سے بھرے حالات کے پیشِ نظر اس مہم کی اہمیت اور افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔امیرِ مقامی شیخ مشتاق احمد نے واضح کیا کہ عالمی وباء کے دور میں کچھ پابندیوں کے تحت بڑے پیمانے پر پروگرامس نہیں کئے جاسکتے لیکن انفرادی ملاقاتیں، کارنر میٹنگ، خطباتِ جمعہ وغیرہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس نشست میں عمائدینِ شہر میں سے عبدالسّتّار علی جناب، فیروز خان ملتانی صاحب، صدرالدین شیخ صاحب، رفیق خان صاحب، منیار برداری کے صوبائی صدر فاروق شیخ صاحب، ملّت ایجوکیشنل سوسائٹی کے نائب صدر محمد رفیق شاہ صاحب، اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر عبدالکریم سالار صاحب نے اپنے خیالات و مشورے پیش کیے۔ پروگرام میں جماعت اہل حدیث کے ذمہ دار نیز جلگاؤں کی قدیم درس گاہ اینگلو اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج کے سابق پرنسپل فاروق اعظمی صاحب نے اپنے گراں قدر مشورے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالیہ تناظر میں ہمیں دعوت کا کام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جو اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ ہمیں کسی کو دل آزاری، اپنی علمی برتری کے اظہارسے پرہیز، وغیرہ سے بچتے ہوئے صبر وتحمّل اور حکمت کے ساتھ اسلام کے پیغام کو پہنچانا ہے۔جماعت اسلامی ہند کے صوبائی مہاراشٹر کے شعبۂ دعوت کے سیکریٹری محمد سمیع صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ چونکہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ ملّت کے ہر فرد کی اپنی ذمہ داری ہے لہٰذا ہمیں بلا تفریق مکتبِ فکر، بغیر کسی تعصب کے کھلے دل سے ایک دسرے کا تعاون کرنا ہے، کرتے رہنا ہے۔ اسٹیج پر سہیل امیرشیخ ، شیخ مشتاق احمد،۔مولانا عبدلاحد ملّی، فاروق اعظمی، عدبالکریم سالاراور فاروق شیخ ودیگر حضرات موجود تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close