ہندوستان

ہتھرون گرام پنچایت میں جماعت اسلامی ہند کا آدرش پینل کامیاب

آٹھ نے جیت درج کی ،پانچ کامیاب خواتین میں ایک ایس سی اور ایک اوبی سی سے

اکولہ18جنوری(آئی این ایس انڈیا)جماعت اسلامی ہند ہتھرون تعلقہ بالا پور ضلع اکولہ میں گرام پنچایت الیکشن میں جماعت اسلامی نے آدرش پینل کے نام سے گیارہ امیدواروں کو الیکشن میں کھڑا کیا تھا، جن میں سے ۸ کامیاب ہوئے۔ ایک امید وار صرف دو ووٹوں سے اور دو امیدوار صرف۷۱ ووٹوں سے فتح سے دور رہے۔ امیر مقامی ہتھرون احفاظ خان نے بتایا کہ وہ بدعنوانی سے پاک نظام کو فروغ دینے اور عوامی مفاد میں جو بھی پالیسی ہوگی اسے نافذ کرنے کی بھرپور جد و جہد کریں گے۔ انہوں نے کہا حکومت کی جانب سے عام آدمی کے لیے بہت سے پروگرام ہوتے ہیں جو بدعنوانی کے سبب یا پورے نہیں ہوتے یا وہ پورا پروگرام ہی بدعنوانی کی نظر ہوجاتا ہے۔شعبہ عدل و قسط کے سکریٹری عبدالمجیب نے اس موقع پر کہا کہ ’’گرام پنچایت جماعت اسلامی ہند ہتھرون کی ہوگی جسکو ’’آدرش گائوں‘‘ بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔اس موقع پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور بطور خاص محترم امیر حلقہ رضوان الرحمٰن خان صاحب کا جن کا ہر لحاظ سے تعاون ملا اور ان کی رہنمائی حاصل رہی ‘‘۔آدرش گائوں پینل کے نام سے انتخابات میں اتارے گئے امیدواروں میں ۲ سیٹیں غیر مسلم بھائیوں کو دی گئیں۔ جبکہ بودھ سماج کو ایک سیٹ دی گئی۔ گیارہ میں سے سات خواتین کو بطور امیدوار اتاراگیا۔جس میں سے پانچ خواتین نے کامیابی درج کی ہے۔ ان پانچوں کامیاب خواتین میں ایک ایس سی اور ایک او بی سی سے ہیں۔جماعت اسلامی ہند کی سیاسی پالیسی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ملک میں امن و امان کا ماحول ہو اور اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام باشندگان ملک ایسی فضا کو فروغ دیں جو اخلاقی قدروں پر مبنی ہو ، جہاں عدل و انصاف ہو اور جہاں تمام معاشرتی و معاشی امتیاز مٹ جائیں۔جماعت اسلامی ہند ان ہی اہم مقاصد کے حصول کیلئے سیاست میں حصہ لیتی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر حلقہ مہاراشٹر رضوان الرحمن خان نے ہتھرون گرام پنچایت الیکشن میں کامیابی پر جماعت کے ارکان و کارکنان کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ بھی تلقین کی کہ فتح کا جشن نہ منائیں بلکہ جو لوگ ہارگئے ہیں ان سے کہیں کہ یہ ان کی بھی فتح ہے اور جن بلند تر مقاصد اور اعلیٰ اقدار کے نفاذ کی خاطر اس الیکشن میں حصہ لیا اس کے حصول کیلئے باہم مل جل کر کام کریں۔یہ سوال کئے جانے پر کہ سوا ارب سے زائد کی آبادی والے ملک میں ساڑھے آٹھ ہزار کی قلیل آبادی والے گرام پنچایت میں فتح سے وہ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ روشنی کی طرح اور آگے بڑھنے اور یہاں کی سیاست میں مثبت تبدیلی لانے میں اس سے مددملے گی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close