ہندوستان

اولا-ابیر وصول نہیں کرسکیں گے زیادہ کرایہ، حکومت نے جاری کی نئی ہدایات

نئی دہلی،28نومبر(آئی این ایس انڈیا) اولا اور ابیر جیسی کیب ایگریگیٹر کمپنیاںبھیڑ کے دوران کرایوں میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہیں لیکن اب حکومت نے ان کمپنیوں کو روکنے کے لئے تیاریاں کرلی ہیں۔ حکومت نے جمعہ کے روز اولا اور ابیر جیسی کمپنیوں پرمانگ بڑھنے پرکرایہ بڑھنے کی ایک حدمتعین کردی ہے، اب یہ کمپنیاں اصل کرایہ سے ڈیڑھ گنا سے زیادہ وصول نہیں کرسکیں گی۔دراصل حکومت کا یہ اقدام اس لئے بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ لوگ طویل عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ٹیکسی خدمات پیش کرنے والی کمپنیوں کے زیادہ سے زیادہ کرایوں پر لگام لگایاجائے۔ بتادیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے اولا اور ابیر جیسے ہندوستان میں ٹیکسی جمع کرنے والوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ہدایات جاری کی۔ایگرگیٹرس کو اعداد و شمار کی لوکلائزیشن کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ڈیٹا تیار کرنے کی تاریخ سے کم سے کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چار ماہ ہندوستانی سرورز میںجمع کیا جائے۔ حکومت ہند کے قانون کے مطابق اعداد و شمار کو قابل رسائی بنانا ہے لیکن صارفین کی رضامندی کے بغیر صارفین کا ڈیٹا شیئر نہیں کیا جاسکتا۔ کیب کمپنیوں کو لازمی طور پر ’24 پلس 7‘ کنٹرول روم قائم کرنا چاہئے اور تمام ڈرائیوروں کو ہر وقت کنٹرول روم سے منسلک ہونا ضروری ہے۔اصول کے مطابق کیب کو بنیادی قیمت سے 50فیصد کم فیس وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔ وہیں منسوخی کی فیس کل کرایہ کا دس فیصد ہوگی، جو سوار اور ڈرائیور دونوں کے لئے 100 روپے سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ڈرائیور کو اب اس ڈرائیو پر 80 فیصد کرایہ ملے گا، جبکہ کمپنی کو صرف 20 فیصد کرایہ ملے گا۔ مرکزی حکومت نے کمپنی کو باقاعدہ کرنے کے لئے ہدایات جاری کی ہے، جس پر عمل کرنا ریاستی حکومتوں کے لئے بھی لازمی ہوگا۔وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے قبل مجموعی ضابطہ کار دستیاب نہیں تھا۔ اب یہ اصول صارفین کی حفاظت اور ڈرائیور کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے جو تمام ریاستوں میں نافذ ہوگا۔ واضح کریں کہ موٹر وہیکل 1988 کو موٹر وہیکل ایکٹ 2019 سے ترمیم کی گئی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close