ہندوستان

#نفاذنظام مصطفیٰ اورپیس پارٹی اف_انڈیا

زیر نظر دونوں تصاویر پیس پارٹی آف انڈیا کے صدر، ایشیا کے مشہور سرجن، سابق ایم ایل اے آف اتر پردیش ڈاکٹر ایوب انصاری صاحب کے ہیں جن کی آج لکھنو جیل سے رہائ ہوئ ہے۔
ان کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے ملک میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ کا نعرہ دیا تھا جو کہ آئین ہند اس کی اجازت دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے نظریہ کی ترویج و اشاعت کرسکتا ، پچھلے نوے سالوں سے سنگھ اپنے نظریہ کی اشاعت میں مصروف کار ہے اور ان کے کارکنان مبینہ طور پر منو اسمرتی اور ہندوتواکے نفاذ کی کوشش میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔
بالآخر عدالت نے پہلے دیش دروھ کا مقدمہ خارج کیا اور مورخہ 24 اکتوبر کو ضمانت پر رہا ہوئے۔
ڈاکٹر ایوب صاحب اور ان کی پارٹی (پیس پارٹی) کو 2012 کے اسمبلی الیکشن سے پہلے مشرقی اتر پردیش میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی تھی ، اور مختلف اوپنین پول میں 60 نشستوں میں کامیابی حاصل ہو رہی تھی ، جس کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے ارد گرد رہنے والوں نے مجوزہ وزیر اعلیٰ کے خطاب نایاب سے نوازنے لگے تھے، ادھر پرانی پارٹیوں نے ڈاکٹر صاحب کے خلاف کامیاب سازش کی اور ان کی سازشوں میں ڈآکٹر صاحب پھنستے چلے گئے، ڈاکٹر صاحب غیر سیاسی آدمی تھے، سیاست کے رموز و اسرار سے ناواقف تھے ، جوں جوں الیکشن کی تاریخ قریب آتی گئ ڈآکٹر صاحب کی پارٹی میں بڑی تعداد میں دوسری پارٹیوں کے امیر ترین کارکنان رکنیت قبول کرتے رہے اور ڈاکٹر صاحب پرانے کارکنان کا ٹکٹ کاٹ کر نئے لوگوں کو ٹکٹ دیتے رہے جس کی وجہ سے ان پر ٹکٹ بیچنے کا بھی الزام عائد ہوا۔ پرانے کارکنان مایوسی کے شکار ہوگئے اور جب الیکشن کے نتائج ائے تو بھت حیران کردینے والے تھے صرف چار سیٹوں پر پیس پارٹی کامیاب ہوسکی تھی ۔ جس میں تین ایم ایل اے کچھ ہی دنوں کے بعد ستہ دھاری دل سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ اور اس طرح مجوزہ وزیراعلی تنہا رہ گئے۔
ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے جو موقع دیا تھا اس کو انھوں نے خوش فہمیوں، خوشامدیوں اور غلط فیصلوں کی وجہ سے گنوا دیا اور آج ڈاکٹر صاحب کی پارٹی اتر پردیش میں دم توڑ رہی ہے، بلکہ آخری سانس لے رہی ہے ایسے میں ان کا کسی مشیر نے پارٹی میں تازہ خون دوڑانے کے لیے مذھب کا سھارا لینے کا مشورہ دیا ہوگا اور ڈاکٹر صاحب اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے "نظام مصطفیٰ” کے نفاذ کی بات کرنے لگے جسے ہم بالکل غلط نہیں کہ رہے ہیں لیکن جب عروج کا زمانہ تھا تب اگر ڈآکٹر صاحب اپنی زندگی میں نظام مصطفیٰ نافذ کر لیتے تو آج وہ واقعی میں اتر پردیش کی تصویر بدلنے میں کامیاب ہو جاتے۔ اور آزاد ھندوستان میں ڈاکٹر عبد الجلیل مرحوم (بانی مجلس مشاورت )کے بعد شمالی ہند میں کامیاب ملت کے لیڈر کی حیثیت سے قیادت کرتے ہوئے نظر آتے،
سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت ک

صدق،عدل اور ہمت تین ایسے صفات ہیں جس کے ذریعے سے کوئ بھی انسان انسانی قیادت لمبی مدت تک کرسکتا ہے اور انھیں عوام محبت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے لئیے سب کچھ قربان کردینے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتی بلکہ اپنی جان تک نچھاور کرنا باعث فخر سمجھتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی اس تصویرنے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب یکسر بدل گئے ہیں،اور وہ اب صداقت،عدالت اور شجاعت کے اسباق کو یاد کر چکے ہیں۔

نبيل اختر نوازى

٧ ربيع الأول ١٤٤٢
مقيم حال رانچی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close