ہندوستان

تسخیر فاوَنڈیشن اور دی ونگس فاوَنڈیشن کے پروگرام میں پروفیسر سجاد حسین کا سرسید سینٹرل یونی ورسٹی بنا ئے جانے کا مطالبہ

سرسید کا فلسفہ ارضیت اور حالات کے تقاضوں سے مربوط:انور پاشا

نئی دہلی ( پریس ریلیز ) تسخیر فاوَنڈیشن اوردی ونگس فاوَ نڈیشن دہلی کے زیر اہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سوسال مکمل ہونے پر ’’ یاد سرسید ‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں متعدد دانشوروں اور مفکروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف ادیب پروفیسر سید سجا د حسین(مدراس) نے کہا کہ سرسید نے نہ صرف ادب وصحافت کو مقصدیت سے جوڑ ابلکہ تعلیمی میدان میں بھی انقلاب برپا کردیا ۔ ان کے فلسفے میں موجودہ عہد کے لیے بھی ایک سے ایک سبق موجود ہے ۔ ساتھ ہی پروفیسر سجاد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں کسی سینٹرل یونیورسٹی کا قیام عمل میں آنا چاہیے ۔ ممتا زفکشن نگار اور ماہر تعلیم پروفیسر غضنفر علی نے سرسید احمد خان کے خاندانی پس منظر،ان کے فلسفے اور عملی اقدامات کو موضوع بناتے ہوئے ایک بہترین داستان پیش کی ۔ زبان واسلوب،داستانوی آہنگ اور بنت کے لحاظ سے یہ داستان منفرد ہے جسے سامعین نے بہت پسند کیا ۔

اس آن لائن پروگرام میں خصوصی طور پر ڈاکٹرطیب خرادی، ڈاکٹر قسیم اختر، ڈاکٹر شاداب تبسم،معین اختر، نعیم النسا قریشی،سعدیہ ، ڈاکٹر شاکرہ خانم، سید طہیر احمد، محمد علم اللہ،نہاں انصاری،ڈاکٹر سلمان فیصل، ساجد حسین ندوی، گلاب ربانی، ڈاکٹرعطاء اللہ سنجری، نذرالاسلام ، عائشہ صدیقہ ،ڈاکٹر شاہانہ ،مالکہ ساسا، ڈاکٹر عرفان سوداگر اور محمد رفیع کے علاوہ تقریباً تین درجن سامعین نے شرکت کی ۔ معروف ناقد ودانشور پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ سرسید کے عہد میں تہذیبی تصادم سے کئی مسائل پیدا ہورہے تھے ۔ انھوں نے گہرائی وگیرائی سے ان مسائل پر غو روفکر کیا اور ایک نئی راہ نکالنے کی کوشش کی ۔ سرسید احمد خان کا فلسفہ دراصل ارضیت اور حالات کے تقاضوں سے مربوط ہے ۔ سرسید کے اقوال و نظریات کا فقط ورد کرنے سے کوئی حاصل نہیں بلکہ ان کی طرح عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اے ایم یو کے پروفیسر اور مشہور کالم نگار شافع قدوائی نے کہا کہ سرسید کا فلسفہ بقائے باہم،تعلق پسندی اور جذباتیت سے گریز میں پیوست ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ہندوستان میں امن وشانتی کی فضا قائم کرنے میں سرسید کے افکارونظریات بھی معاون ہوسکتے ہیں ۔

مترجم اور کالم نگار ذیشان مصطفی( جے این یو) نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے متعلق کئی سوالات اٹھائے اور’’ سرسیدمطالعات ‘‘ کے نام سے خصوصی کورس شروع کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انھوں نے کہا کہ منظم طریقے سے سرسید احمد خان کو اے ایم یو کے نصاب میں بھی شامل نہیں کیا گیا جو کہ ایک افسوس کی بات ہے ۔ ان کے علاوہ سید سجاد احمد ندیم ضیائی اور حارث حمزہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close