ہندوستان

صوفی جمیل اختر لیٹیریری سوسائٹی، (انڈیا، کلکتہ) کی جانب سے آنلائن زوم پر ایک منفرد پروگرام (کاروانِ نسواں)

کلکتہ (ہندوستان اردو ٹائمز) صوفی جمیل اختر لیٹیریری سوسائٹی، (انڈیا، کلکتہ) کی جانب سے بروز اتوار ۱۸اکتوبر کو ۲۰۲۰ء پانچ بجے شام سے آنلائن زوم پر ایک منفرد پروگرام (کاروانِ نسواں) کے نام سے منعقد کیا گیا۔ اردو کے فروغ میں خواتین کی ادبی خدمات پر مشتمل اس آن لائن پروگرام میں دنیا کے کئ ممالک سے لوگ جڑے اور اپنی محبت اور حوصلہ افزائ سے اسے کامیاب بنایا۔
اس کاروانِ نسوان کا حصہ بنی چار مہمان خواتین اور دو میزبان خواتین نے صحافت ، علم و ادب اور حسن و سلوک کی بہترین نمائندگی کی۔
مِصر کی عین شمس یونیورسٹی سے اردو زبان و ادب کی معلمہ، شاعرہ اور ادیبہ ڈاکٹر ولا جمال العسیلی اور عمان کی شاعرہ اور ادیبہ محترمہ اَیمن عنبریں نے ایک ساتھ مل کر ایک بےحد مختلف اور بہترین انداز میں پروگرام کی نظامت کی۔ اور اس پروگرام میں شامل مہمان خواتین جن میں جےپور سے ہندوستان کی مشہور و معروف شاعرہ ملکہ نسیم صاحبہ ، دہلی سے ٹی وی کی سینئر صحافی بشریٰ خانم صاحبہ ، مصر کی الازہر یونیورسٹی سے اردو کی معلمہ بدریہ محمد صاحبہ اور دہلی سے مشہور افسانہ نگار اور خاتونِ مشرق کی سابقہ ایڈیٹر چشمہ فاروقی صاحبہ نے شرکت کر پروگرام کو شاندار کامیابی عطا کی۔
صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائیٹی کا تعارف اور سرگرمیاں پیش کر میزبان اَیمن عنبریں صاحبہ نے خوبصورت انداز میں پروگرام کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر ولاء جمال نے درج ذیل اپنے ایک شعر سے گفتگو آغاز کیا:
صدیوں سے چل رہا ہے یہ کاروانِ نسواں
ہر نقش پا نے لکھا ہے داستانِ نسواں
پھر مہمان خواتین کا تعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دو میزبان نے خوبصورت انداز سے پروگرام کی چار مہمان خواتین کا تعارف پیش کیا۔ دونوں نے گفتگو کا آغاز کیا اور مہمانوں سے سوالات بھی کئے۔
اس دوران اردو صحافت ، علم و ادب ، خواتین کی ادبی خدمات اور معاشرتی مسائل جیسے موضوعات پر گفتگو کر مہمان خواتین نے نہ صرف نئ نسل تک پیغام پہنچایا بلکہ کئ اہم موضوعات پر غور و فکر کرنے پر مجبور بھی کیا۔
اس پروگرام میں ٹی وی کی مشہور سینئر صحافی بشریٰ خانم نے بہت ہی سلیس انداز میں یہ بیان کیا کہ صحافت بھی ادب کی ایک شاخ ہے۔ ساتھ ہی یہ فکر بھی ظاہر کی کہ اردو زبان کی فروغ اور بقا کے مواقع بہت کم ہیں اس لئے ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ مشہور و معروف شاعرہ ملکہ نسیم صاحبہ نے اپنا کلام پڑھ کر شرکائے بزم کے دل جیت لئے۔ اور خواتین کی ادبی خدمات کا ذکر کیا۔ کتابوں کو دوست بتاتے ہوۓ مطالعہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے بھی کہا کہ اردو تنقید کے سلسلے میں اب تک خواتین نے مثبت کردار ادا نہیں کیا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ محترمہ چشمہ فاروقی جو افسانہ نگار ہیں اپنی ادبی سرگرمیوں کے بارے میں انہوں نے بات کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے افسانوں کے بارے میں کہا کہ وہ ان افسانوں میں عورت کے مسائل پر دھیان دیتی ہیں۔ اور آج خواتین افسانہ نگاروں کے بارے میں کہا کہ ان کے یہاں سماجی حیثیت پائی جاتی ہے اور معاصر معاشرہ ان کے افسانوں میں زندہ اور متحرک نظر آتا ہے۔ محترمہ چشمہ فاروقی نے اپنی گفتگو کے آخر میں نئی نسل کی افسانہ نگار خواتین کے لئے ایک پیغام دیا اور پروگرام کے تمام ناظرین کو اپنا ای افسانہ سنایا جو اپنے مقصد، موضوع، زبان اور تاثر کی بنیاد پر عم افسانوں میں شمر کیا جاتا ہے۔
اس بزم میں مصر سے ڈاکٹر بدریہ محمد صاحبہ بھی شامل تھیں ۔ عالمی سطح کی قدیم ترین اور ممتاز جامعات میں شمار ہونے والی الازہر یونیورسٹی کے شعبہء اردو کی ایک معلمہ ہیں۔ انہوں نے مصر میں اردو کی صورتحال کے بارے میں بات کی اور کہا کہ مصر میں اردو زبان نمایاں مقام رکھتی ہے۔ وہاں اردو زبان وادب کی مقبولیت روز افزوں ہے ۔ جامعہ الازہر میں اردو کے نصاب کے بارے میں بھی بات کی۔ اس کے علاوہ اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ وہ روشن ہے۔ ان کی گفتگو کے آخر میں معروف و مشہور شاعر میر تقی میر کی خوبصورت غزل پڑھی۔
اس بزم میں صوفی جمیل اختر لیٹیریری سوسائٹی کے سرپرست اور معروف ادیب جناب فہیم اختر اور پروگرام کے کنوینر جناب امتیاز گورکھپوری کے علاوہ صوفی جمیل اختر لیٹیریری سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر محمد کاظم شامل تھے۔ ساتھ ہی ساتھ جرمنی سے جناب ڈاکٹر عارف نقوی ، اور بہت سے لوگ بطور سامعین حاضر تھے۔
کاروانِ نسواں کا پروگرام تقریبا دو گھنٹے دورانیہ کا تھا۔ یہ پروگرام ایک بہترین موقعہ تھا کہ علم میں اضافہ ہوتا ہے۔
جہاں چار مہمان خواتین تھیں۔ سب اپنے فیلڈ میں مہارت رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی صاحبہ نے پروگرام کا اختتام کیا اور اپنے بہترین انداز میں تشکر پیش کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close