ہندوستان

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی متعدد خبریں : خواتین کی قیادت کے موضوع پرآن لائن ورکشاپ کا انعقاد

خواتین کی قیادت کے موضوع پرآن لائن ورکشاپ کا انعقاد

علی گڑھ7ستمبر(آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمن اسٹڈیز سینٹر کے زیراہتمام اکیسویں صدی کی خواتین قیادت: موجودہ دور میں ان کاکردارکے موضوع پرایک آن لائن ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین میں قائدانہ اہلیت کی ترقی اور قوم اور معاشرے کے تئیں ذمے داریوں کی ادائیگی میں ان کے کردار جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورکشاپ کا اہتمام لیڈ بائی فاؤنڈیشن، ایس آئی سی آئی ہارورڈ کینیڈی کے تعاون سے کیا گیا۔ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ممتاز ماہر امراض اطفال ڈاکٹر حمیدہ طارق نے کہا کہ خواتین تمام شعبوں میں مردوں کے مساوی کردار ادا کر رہی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن اور جرمنی کی چانسلر اینجیلا مارکل کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کی خواتین سربراہان نے کووِڈ 19 تعدہ سے پیدا شدہ حالات میں اپنی اعلی قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ خواتین بحرانوں اور مشکل حالات میں بھی پوری قوت اور بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ خواتین بحران اور چیلنج سے بھر پور حالات میں مثالی فیصلے لینے کی اہلیت اور قابلیت رکھتی ہیں۔انھوں نے کہاہے کہ اگر خواتین کو معاشرے میں یکساں طور پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے تو وہ ہر شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرسکتی ہیں۔اس سے قبل ورکشاپ کی نظامت کرتے ہوئے، ریسورس پرسن لیڈ بائی فاؤنڈیشن کی بانی صدر ڈاکٹر رُحا شاداب نے مختلف شعبوں کی خواتین سربراہوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ماتحت خواتین کارکنوں کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے ترغیب دیں اور ان کے اندر قائدانہ صفات کے فروغ کے لیے کوشش کریں۔ڈاکٹر رُحا نے لیڈ بائی فاؤنڈیشن کی محترمہ شبینہ شیخ اور مسٹر پران امِتاوا کے ساتھ طالبات سے کہا کہ وہ اپنے اندر قائدانہ کردار اور صلاحیت کے فروغ کے لئے محنت کریں۔اس موقع پر، ڈائریکٹر ویمن اسٹڈیز سنٹر، پروفیسر عذرا موسوی نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے وقتاََفوقتاََایسی ورکشاپس کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی بہت سی خواتین اے ایم یو کی تاریخ میں پیدا ہوئی ہیں جنہوں نے طالب علموں کی بہت سی نسلوں کو متاثر کیا ہے اوران کے لیے تحریک کا منبع ثابت ہوئی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ویمن اسٹڈیز سنٹر کی بانی ڈائریکٹر پروفیسر ذکیہ صدیقی اور سنٹر کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر شیریں موسوی ایسی خواتین سربراہوں کی بہترین مثال ہیں۔ڈاکٹر جوہی گپتا نے مہمانوں کا تعارف کرایا جبکہ محترمہ صحیبہ نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

سرسید میموریل لیکچر کا انعقاد کل

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات کے تحت سرسید میموریل لیکچر -2020 سیریز کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سرسید اکیڈمی کے زیر اہتمام 9 ستمبر 2020 کو صبح 11 بجے جموں کشمیر کے سابق گورنر، مسٹر این این ووہرہ ’’گورننس، سرکاری نظام کی ذمہ داریاں اور عوامی خدمات‘‘ موضوع پر آن لائن لیکچر پیش کریں گے۔ اس لیکچر کے تحت مسٹر ووہرہ حکومت کا کردار،ایک اچھی حکومت کا تصور، پالیسی وضع کرنے کا عمل، سرکاری مشینری کے اہم کارپرداز اور معاشرے کے تمام طبقات کی حکومت میں شرکت اور شمولیت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔سرسید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر علی محمد نقوی نے بتایا کہ اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کریں گے اور سرسید اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شاہد اظہار تشکر کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لیکچر میں شرکت کے لئے اے ایم یو کی ویب سائٹ پر موجود Webex پورٹل پر پروگرام نمبر- 1704857574 کے ذریعے مذکورہ بالا تاریخ میں تاریخ لاگ اِن کیا جاسکتا ہے۔

شعیب اقبال کی اردونوازی بھی ختم

اردوڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (دہلی) کے نائب صدر صلاح الدین نے جاری بیان میں کہا کہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اردوداں لیڈروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اردو کو نہ صرف نظرانداز ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کی بقا، ترویج و ترقی کی ہرممکن کوشش بھی کریں گے۔ مگر افسوس کہ پوری دہلی سے دھیرے دھیرے دُکانوں، مکانوں اور شاہراہوں پر اردو تحریرکیے جانے کی روایت ختم سی ہوتی جارہی ہے اور وہ سمٹ کر اس وقت جامع مسجد دہلی، مٹیامحل اور چاندنی چوک تک محدود ہوکر رہ گئی اور اب مٹیامحل حلقہ سے ایم ایل اے شعیب اقبال صاحب جو اردو کے پرستاروں میں شمار تھے، ان کی جانب سے بھی شائع ہونے والے پوسٹرز اور شاہراہوں پر ان کے نام کے آگے اردو تحریرختم ہوگئی ہے۔ صلاح الدین صاحب نے مزیدکہاہے کہ اردوتحریرنہ کرنااحساس کمتری کی علامت ہے جبکہ اردونہ صرف بھارت کی مقبول عام زبان ہے اور دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں کی دوسری سرکاری زبان بھی ہے یہاں تک کہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جناب پنڈت جواہر لعل نہروکی مادری زبان اردوتھی اوراردوبھارت میں پیدا ہوئی، بڑھی اور پروان چڑھی اور اس میں ہر مذہب و طبقہ کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ انہوں نے تمام رہنمائوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک کی اس پیاری زبان کو رائج کرنے میں مددکریں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close