مضامین و مقالات

مدارس اسلامیہ حفاظت دین کا ذریعہ اور مسلم معاشرے کو پانی دینے کے مانند ہے، مفتی رضوان قاسمی

مدارس اسلامیہ حفاظت دین کا ذریعہ اور مسلم معاشرے کو  پانی دینے کے مانند ہے، مفتی رضوان قاسمی

بیرول 5 / مئی (شمیم احمد رحمانی ) سمستی پور ضلع کے سنگھیا بلاک واقع غریب مسلمانوں کی آبادی موضع بھرریا میں میں جامعہ فیض منٹ رحمانی کا قیام اور دربھنگ ضلع کے گھنشام پور بلاک میں واقع موضع شاہ پور گنون میں دو سال قبل قائم ہوئے مدرسہ حمیدیہ مجیدیہ تعلیم القرآن کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان تعلیمی بیداری و اصلاح معاشرہ کانفرنس سے ہر دو مقامات پر خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزی جمعیت علماء سیمانچل، جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ سوپول دربھنگہ نے قاری محمد اسلم رحمانی بانی جامعہ فیض منت رحمانی بھرریا اور جناب بابو غلام احمد ربانی صاحب بانی و سکریٹری مدرسہ حمیدیہ مجیدیہ تعلیم القرآن شاہ پور گنون کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کا قیام حفاظت دیں و اشاعت اسلام کا ذریعہ ہے اور جس طرح کھیت کے فصلوں اور باغات کے پیڑ پودوں کی زندگیوں کو لہلہاتے کیلئے نہر، نالا اور بورنگ سے پانی دیا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح دینی مدارس مسلم معاشرے کی  بنیادی روح کی حرارت کو باقی رکھنے اور شعائر اسلامی کی ہریالی کو تازہ کرتے رہنے کیلئے     پانی دینے کے مانند ہیں خوش نصیب ہیں مسلمانوں کی وہ آبادیاں جہاں مدارس قائم ہیں یا قائم ہو رہے ہیں انہوں نے مسلمانوں کے موجودہ معاشرتی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے درد مندانہ خطاب میں کہا کہ دینی مدارس کا مخالف یا دینی کاموں میں رکاوٹ کا ذریعہ بننے والا یا دین کے کاموں کو بگاڑنے یا خراب کرنے والا انسان بھی روئے زمین پر جہنمی ہے ہر مسلمان کو اس طرح کے عمل سے گریز کرنا چاہیے اگر ہم  ایک روپے کی مدد نہیں کر سکتے ہیں تو مخالف کرکے اپنی دنیا و آخرت کو برباد بھی نہ  کریں جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد  رضوان قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرکے مسلم معاشرے کو مثالی بنائیئے شریعت کے دائرے میں رہ کر ہی ہم مسلمان ہیں باہر رہ کر نہیں ، نکمے لوگوں کا کام مسائل پیدا کرنا ہے جبکہ کام کے لوگ مسائل حل کرتے ہیں اس لئے کام کے لوگوں کو پہچانیئے ، نکموں اور چابلوسوں سے دور رہیئے اس موقع پر موضع بھرریا میں منعقد اجلاس کی صدارت حضرت مولانا جمیل احمد مظاہری استاد حدیث جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر نے اور نظامت مولانا مفتی محمد ثناءاللہ صاحب کی جبکہ حضرت مولاناطاہر صاحب بھاگل پور، حضرت مولانا امین الدین خان چترویدی ، حضرت مولانا مفتی محمد سعد اللہ صاحب سمیت کئی علمائے کرام کا پرمغز اصلاحی بیان ہوا اور  موضع شاہ پور گنون ضلع دربھنگہ میں مشہور عالم دین فقیہ ملت قاضی شریعت  حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری دامت برکاتہ  کی صدارت میں منعقد اجلاس سے استاذالعلماء حضرت مولانا عبدالرب صاحب قاسمی استاد حدیث مدرسہ رحمانیہ سوپول، حضرت مولانا محمد اسلام الدین صاحب قاسمی پرنسپل مدرسہ فرقانیہ بگھیلا گھاٹ، حضرت مولانا عبدالمنان صاحب ناظم مدرسہ سیدنا ابو بکر صدیق دھموارہ، سمیت کئی علاقائی علمائے کرام نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کیلئے  دینی تعلیم کے حصول کو یقینی بنائیں اور مسلم معاشرے کو غیر اسلامی رسم و رواج ،سماجی برائیوں اور جہیز جیسی لعنتوں سے صاف ستھرا بنانے میں اپنے اپنے علاقوں میں عملی قدم اٹھائیں اس موقع پر یہاں سرپرست اجلاس اور مدرسہ رحمانیہ سوپول کے قدیم فاضل  بزرگ عالم دین حضرت مولانا شمیم احمد صاحب رحمانی، مولانا آفتاب عالم قاسمی صدر مدرس مدرسہ ثمین العلوم، مولاناجمیل احمد ناظم مدرسہ ، قاری غلام رسول استاد مدرسہ اصلاحیہ نام نگر نبٹولیہ، بانی اجلاس بابو غلام ربانی، محمد اشفاق، ڈیلر محمد سعید، سمیت بڑی تعداد میں عام و خاص نے شرکت کی جناب مولانا جمیل اختر صاحب ندوی  کی نظامت اور مدرسہ اسلامیہ پالی کے مہتمم و خطیب جامع مسجد حضرت مولانا مفتی نظرالباری ندوی سکریٹری جمعت علماء دربھنگہ  کی پر سوز دعا پر قبل نماز فجر اجلاس ختم ہوا

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close