اہم خبریں

گڑگاؤں موب لنچنگ : اجتماعی خودکشی کا ارادہ ظاہر کرنے کے باوجود پولس اب تک خاموش !

گڑگاؤں موب لنچنگ : اجتماعی خودکشی کا ارادہ ظاہر کرنے کے باوجود پولس اب تک خاموش ! 
ہریانہ کی کھٹر حکومت کا اقلیت دشمن چہرہ اس بات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جب ان سے مسلمانوں کی پٹائی کے تعلق سے پوچھا گیا تو انھوں نے مظلوم کو انصاف دلانے کی بات کرنے کی جگہ ظالم کی ہی طرفداری شروع کر دی۔
گڑگاؤں ۔ 04 اپریل 2019 (محمد صابر قاسمی میواتی)
گڑگاؤں کے بھونڈسی علاقہ میں ہولی کے موقع پر ایک مسلم فیملی کے ساتھ جو درندگی ہوئی، اس کا انصاف ملنا تو دور، مزید دہشت کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ غنڈہ صفت افراد کی پٹائی کا شکار ساجد کے اہل خانہ انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن کہیں سے انھیں کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ خوف اور گھبراہٹ میں انھوں نے گڑگاؤں کی ایس ڈی ایم ڈاکٹر چنار کو اجتماعی خودکشی کرنے پر مبنی دھمکی آمیز خط بھی لکھ ڈالا، لیکن پولس انتظامیہ ہے کہ کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔ حالانکہ ایس ڈی ایم ڈاکٹر چنار نے متاثرہ فیملی کو یقین دلایا ہے کہ انصاف ملے گا اور قانونی کارروائی ہوگی، لیکن ابھی تک یہ صرف ٹال مٹول ہی معلوم پڑ رہا ہے۔

کریئٹیو فوٹو ہندوستان اردو ٹائمز

بی جے پی حکمراں ریاست ہریانہ کی کھٹر حکومت کا اقلیت دشمن چہرہ اس بات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جب ان سے ایک ٹی وی پروگرام میں مسلمانوں کی پٹائی کے تعلق سے پوچھا گیا تو انھوں نے مظلوموں کو انصاف دلانے کی بات کرنے کی جگہ ظالموں کی ہی طرفداری کرنی شروع کر دی۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کے اس عمل نے ساجد کی فیملی کو توڑ کر رکھ دیا ہے اور انھیں سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں۔ ساجد کے بھائی محمد اختر نے ’قومی آواز اردو میڈیا ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم بے بس ہیں اور کہیں سے کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ پولس محکمہ کے ہر افسر کی چوکھٹ پر اپنی فریاد لے کر گئے لیکن کسی نے مثبت جواب نہیں دیا اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی۔‘‘

ہندو شدت پسند افراد کی شدت پسندی کے شکار ساجد ابھی تک اس واقعہ کو بھول نہیں پایا ہے اور اس کا زخم بھی ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’گھر والوں پر ایف آئی آر واپس لینے کا دباؤ لگاتار بنایا جا رہا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اپنے قدم پیچھے کھینچ لیں۔‘‘ ساجد کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتظامیہ کا کردار پورے معاملے میں غیر منصفانہ نظر آ رہا ہے اور اس پورے عمل میں قصورواروں کو سیاسی سرپرستی ملتی ہوئی بھی معلوم پڑ رہی ہے۔

بھونڈسی علاقے میں مقیم اس متاثرہ فیملی سے ملاقات کے بعد کئی طرح کی باتیں نکل کر سامنے آتی ہیں اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہر طرح سے معاملہ کو دبانے اور ہلکا کرنے کی کوشش پولس و انتظامیہ کی جانب سے ہو رہی ہے۔ کچھ مقامی سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ حملہ آور نوجوان غنڈہ قسم کے تھے اور پولس کا ان پر دفعہ 308، ارادہ قتل کے تحت ایف آئی آر درج کرنا سفید کو سیاہ کرنے کی کوشش ہے۔ ایک شخص کا کہناہے کہ ’’پوری دنیا نے وائرل ویڈیو میں دیکھا کہ کون ظالم تھا اور کون مظلوم، پھر بھی پولس و انتظامیہ کی آنکھیں بند ہیں۔‘‘ جب مایوس متاثرہ فیملی انصاف کی بھیک مانگنے سوہنا کی ایس ڈی ایم ڈاکٹر چکارکے پاس پہنچی تو وہاں بھی صرف یہی کہا گیا کہ کارروائی ہوگی، آپ ڈیٹیل جمع کر دیجیے۔ لیکن یہ دیکھنے والا کوئی نہیں کہ ہولی کے بعد اتنے دن گزر گئے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کی جگہ مظلوم طبقہ کو ہی ہراساں کیا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر سے گزشتہ دنوں جب ایک ٹی وی پروگرام کے دوران گڑگاؤں واقعہ پر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا تھا کہ گڑگاؤں دہلی سے سٹا ہوا علاقہ ہے اس لیے قومی میڈیا بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ انھوں نے تو حملہ آور طبقہ کے ذریعہ کاؤنٹر ایف آئی آر کیے جانے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ یہ ان کا حق ہے اس لیے کوئی برائی نہیں۔ شرمناک تو یہ ہے کہ پوری بات چیت میں کھٹر نے متاثرہ فیملی کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ نہیں کہا۔ انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’معاملے کو فرقہ وارانہ تشدد کا رنگ دیا گیا ہے۔‘‘ ظاہر سی بات ہے کہ اپنی سیاسی بساط مضبوط کرنے کے لیے کھٹر اکثریتی طبقہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہندو طبقہ کے تئیں نرم گوشہ اختیار کر کے ووٹ کی سیاست کر رہے ہیں اور پولس انتظامیہ بھی اس میں ان کی مدد کر رہی ہے۔

بہر حال، جس طرح کے حالات متاثرہ فیملی کے لیے پیدا ہو گئے ہیں، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہت زیادہ دنوں تک اس علاقے میں نہیں ٹھہر پائیں گے۔ اجتماعی خودکشی کی دھمکی پر مبنی خط ایس ڈی ایم کو لکھے جانے کے بعد بھی اگر ساجد اور اس کی فیملی کو انصاف نہیں مل رہا ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ پولس و انتظامیہ نے خاموشی اختیار کرنے کی ٹھان لی ہے، اور طے کر لیا ہے کہ مظلوموں کی کوئی فکر نہیں کرنی۔ ایسے ماحول میں یہ مسلم فیملی علاقے سے جلد کسی دوسری جگہ ہجرت کر جائے تو کوئی حیرانی نہیں ہوگی، کیونکہ یہ فیملی اس وقت انتہائی مجبور اور بے بس نظر آ رہی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close